Al-Risala · February 2007 · page 13

(spiritual activism) اسپرپچول ایکٹوزم

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳

اور نامطلوب مسئلہ وجود میں نہ آیا ہو۔ گویا کہ وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں ایسی دوائیں ہیں جو ہمیشہ سائیڈ ایفیکٹ (side effect) پیدا کرتی ہیں، جب کہ دعوہ ایکٹوزم کا طریقہ مکمل طور پر سائیڈ ایفیکٹ کی بُرائی سے پاک ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں کا فارمولا یہ ہے کہ پرابلم کو ہٹاؤ تا کہ مطلوب عمل کا راستہ کھلے۔ اس کے برعکس، دعوہ ایکٹوزم کا طریقہ یہ ہے کہ پرابلم کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ اور اسی طرح اپنی ترقی کا پرامن سفر جاری رکھو: Ignore the problems and avail the opportunities. دعوہ ایکٹوزم کا فکر اس فطری حقیقت پر مبنی ہے کہ کسی سماج میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ پرابلم تو ہوں، مگر مواقع موجود نہ ہوں۔ فطری قانون کے مطابق، ہمیشہ دونوں بیک وقت موجود رہتے ہیں۔ اس لیے پر امن طریقہ کار یہ ہے کہ پرابلم کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ ایک برٹش اسکالر مسٹر ای ای کلیٹ (E E Kellet) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبرِ اسلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. ناکامی سے کامیابی کو نچوڑنا کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پرابلم کو مواقع (oppertunities) میں کنورٹ کیا، اور پھر مواقع کو استعمال کر کے پرابلم کو اپنے ترقیاتی سفر کا زینہ بنالیا۔

یہ دعوہ ایکٹوزم کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں۔ مسائل، زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کو کسی بھی حال میں زندگی سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ مسائل سے بے فائدہ طور پر لڑائی جاری رکھی جائے، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حُسن تدبیر سے مسائل کو مواقع میں تبدیل کر دیا جائے۔ پیغمبر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page