Al-Risala · February 2007 · page 14

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴

اسلام کی پوری زندگی حسنِ تدبیر کی مثال ہے۔ اس معاملے کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو رقم الحروف کی کتاب کتاب—مطالعۂ سیرت:

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

مواقع کو استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اصول ایک گہری اسٹریٹجی پر قائم ہے۔ جب بھی ایسا کیا جائے کہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پرابلم کا اروژن (erosion) شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرابلم مسلسل طور پر گھٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ پرابلم عملاً غیر مؤثر ہو جائیں اور سارے امکانات اُن لوگوں کے حصے میں آ جائیں جو اس فارمولے کو استعمال کر کے اپنا عمل جاری کیے ہوئے تھے۔

دعوہ ایکٹوزم کا سب سے زیادہ امتیازی پہلو یہ ہے کہ آدمی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پالیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی اصلاحی عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز، اقدام نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن بنایا جائے۔ ذہن کی ڈی کنڈیشننگ، ذہن کی ری انجینئرنگ، ذہن کا ری اورین ٹیشن، ذہن کو اس قابل بنانا کہ وہ منفی سوچ سے اس طرح خالی ہو جائے کہ وہ منفی واقعے کو مثبت تجربے میں تبدیل کر سکے۔ اسی کا نام ذہنی تیاری ہے، اور کسی گہرے عمل کے لیے یہی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔

حضرت مسیح دو ہزار سال پہلے یروشلم میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پہلے شہر کے اندر اپنا مشن شروع کیا۔ اس کے بعد وہ سمندر کے کنارے گئے۔ وہاں ملاّح مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ حضرت مسیح نے ان ملاّحوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اے مچھلیوں کو پکڑنے والو، آؤ کہ میں تم کو انسان کا پکڑنے والا بناؤں:

"Follow me, and I will make you fishers of men." (Matthew 4:19)

حضرت مسیح کا یہ قول دعوہ ایکٹوزم کے بنیادی فلسفے کو بتاتا ہے۔ سیاسی تحریکوں کا نشانہ کوئی مفروضہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page