Al-Risala · February 2007 · page 15

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

یاغیر مفروضہ خارجی دشمن ہوتا ہے، لیکن دعوہ ایکٹوزم کا نشانہ صرف انسان ہوتا ہے۔ یعنی انسان کے اندر چھپے ہوئے فطری امکان (potential) کو باہر لانا، ذہنی ترقی (intellectual development) کے ذریعے اعلیٰ انسان بنانا۔ ہر عورت اور مرد فطری طور پر بہترین امکانات لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ان امکانات کو واقعہ بنانا، یہی دعوہ ایکٹوزم کا اصل نشانہ ہے۔

دعوہ ایکٹوزم کی ترتیب یہ ہوتی ہے— فرد سازی، معاشرہ سازی اور اس کے بعد حسبِ امکان حکومت سازی۔ یہ پورا عمل امن کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ دعوہ ایکٹوزم میں ہر اگلے مرحلے کی طرف اقدام پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ دعوہ ایکٹوزم میں سارا عمل لوگوں کے اپنے اختیار پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ جبر پر۔ اس لیے اصولی طور پر اس میں کبھی امن شکنی کی نوبت نہیںآتی۔ دعوہ ایکٹوزم میں اگر کبھی تشدد نظر آئے تو وہ اصول سے انحراف کی بنا پر ہوگا نہ کہ اصول کے اتباع کی بنا پر۔

دعوہ ایکٹوزم میں امن کا ماحول کس طرح قائم رکھا جاتا ہے، اس کا جواب حضرت مسیح کے ایک قول میں اس طرح ملتا ہے۔ انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ — جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے، وہ خدا کو دو:

“Render therefore to Caesar the things that are Caesar's, and to God the things that are God's.”

حضرت مسیح کے زمانے میں فلسطین رومن ایمپائر کے ماتحت تھا۔ رومی بادشاہوں کا خاندانی لقب قیصر (Caesar) ہوا کرتا تھا۔ کچھ لوگوں نے حضرت مسیح سے سوال کیا کہ فلسطین میں سیاسی اعتبار سے رومیوں کی حکومت ہے، دوسری طرف ہمارے مذہبی احکام ہیں اس طرح ہم دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہیں۔ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ حضرت مسیح نے جواب دیا کہ رومی حکمران جو حکم دیں اس کو مانو، ان سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے عمل کا جو غیر سیاسی دائرہ باقی رہتا ہے، اُس میں اپنے مذہبی تقاضے پورے کرو۔ اِس مسیحی فارمولے کو ایک لفظ میں پوٹکل اسٹیٹس کو ازم (political status quoism) کہا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page