Al-Risala · February 2007 · page 16

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶

حضرت مسیح کے پیروؤں نے اُن کے بعد اسی اصول پر عمل کیا۔ وہ مختلف ملکوں میں داخل ہوئے ۔ ہر جگہ کسی نہ کسی کی حکومت تھی ، مگر مسیح کے پیروؤں نے ان سے سیاسی ٹکراؤ نہیں کیا۔ سیاسی ٹکراؤ سے اوائڈ کرتے ہوئے انھوں نے مسیحیت کی پرُ امن تبلیغ کی۔ وہ پچھلے دو ہزار سال سے اس اصول پر کار بند ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسیحی مذہب تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن گیا ہے۔

حضرت مسیح کا مذکورہ قول دراصل اسپرچول ایکٹوزم یا دعوہ ایکٹوزم کے ابدی اصول کو بتاتا ہے ۔ چنانچہ یہی بات پیغمبر اسلام نے اس طرح بیان فرمائی : أَدُّوا إليهم حقهم وسئلوا الله حقكم ( صحیح البخاری) یعنی حکمرانوں کو ان کا حق دو ، اور اپنا حق خدا سے مانگو۔ اس حدیث میں خدا سے مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے قائم کردہ فطری نظام پر بھروسہ کرو اور اس کے مطابق عمل کر کے اپنا حق حاصل کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ سیاسی پاور کس کے ہاتھ میں ہے اور کس کے ہاتھ میں نہیں ، اس کو نظر انداز کرو۔ اس کے بجائے یہ کرو کہ خدا کے قائم کردہ فطری نظام میں جو ابدی مواقع رکھے گئے ہیں ، ان کو استعمال کر کے اپنا مقصد حاصل کرو: Ignore the political system and avail the natural opportunities present in the circumstances. حکومت ہمیشہ سے سماج کا ایک حصہ رہی ہے۔ قدیم زمانے میں حکومت ہی کو سماج کا سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم زمانے میں زراعت ، آمدنی کا واحد ذریعہ تھا اور زرعی زمین حاکم کی ملکیت میں ہوتی تھی۔ اس لیے لوگوں کا یہ حال ہوا کہ ان کی امیدیں سب کی سب وقت کے حاکم سے وابستہ ہونے لگیں۔ اس ذہن کا آخری نتیجہ یہ تھا کہ لوگ وقت کے حاکم کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ۔ اسی عمومی مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ جب بھی کوئی لیڈر یا ریفارمر اٹھتا تو لوگ یا تو اپنے مسائل کو لے کر حکمراں سے ٹکرانے لگتے ، اور اگر ٹکراؤ ممکن نہ ہوتا تو وہ اس سے متنفر ہو کر مایوس ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ عوام اور حکمران سے ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی۔ دعوہ ایکٹوزم کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page