The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
فلاسفی اس معاملے میں بالکل مختلف ہے۔ دعوہ ایکٹوزم اس تصور پر قائم ہے کہ حکمراں کے سیاسی اقتدار کے باوجود ہمیشہ عمل کا ایک غیر سیاسی دائرہ پایا جاتا ہے۔ اُس غیر سیاسی دائرے میں ہمیشہ کچھ مواقع موجود ہوتے ہیں۔ امن پسندانہ طریقہ یہ ہے کہ سیاسی حاکم سے ٹکراؤ کو نظر انداز کر کے غیر سیاسی دائرے میں موجود مواقع کو استعمال کیا جائے۔ یہی مطلب ہے اس قولِ رسول کا کہ ـــ حاکم کو اس کا حق دو، اور جو تمھارا حق ہے اس کو خدا سے مانگو۔ یعنی اپنے امکاناتِ فطرت کو استعمال کر کے اس کو حاصل کرو۔
موجودہ زمانے میں اس اصول کی اہمیت اب ہزار گُنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ موجودہ زمانہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن کا زمانہ ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کے بغیر مختلف کاموں کے لیے ادارے قائم کیے جائیں اور ان کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ـــ مثلاً ایجوکیشن، میڈیا، دعوہ ورک، تجارت و صنعت اور لائبریری جیسے علمی مراکز کا قیام، وغیرہ۔ دعوہ ایکٹوزم کا ایک بنیادی اصول صبر ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص یا کوئی گروہ ایک مشن کو لے کر اٹھے تو درمیان میں بار بار مختلف قسم کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں، کبھی انٹرسٹ خطرے میں پڑتا ہوا نظر آتا ہے، کبھی انا پر چوٹ لگتی ہے، کبھی وقتی مصلحتیں تباہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس طرح کے مواقع مشن کے لیے سخت خطرہ ہیں۔ کیوں کہ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ اصل نشانے سے انسان کی نظریں ہٹ جاتی ہیں ، اس کا اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصل منزل کی طرف اس کا سفر جاری نہ رہ سکے۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے دعوہ ایکٹوزم میں ایک مضبوط تحفظ موجود ہے، یہ تحفّظ صبر کا اصول ہے۔ دعوہ ایکٹوزم میں صبر کے اصول کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ ہر نقصان اور ہر ناخوش گواری کو برداشت کرنا، اور ہر حال میں اصل منزل کی طرف اپنا سفر جاری رکھنا۔ یہی صبر ہے، اور اس صبر کے بغیر کوئی مشن راستے کے انحراف سے بچ نہیں سکتا۔
دعوہ ورک میں صبر کی اس روش پر قائم رہنے کے لیے ایک نہایت طاقت ور محرک موجود ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues