Al-Risala · February 2007 · page 18

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸

ہے، اور وہ جنت ہے۔ دعوہ ورک میں آدمی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کا مقصد دنیا کے مفاد کا حصول نہیں، بلکہ صرف جنت کا حصول ہے، جو موت کے بعد ملنے والی ہے۔ جنت کا تصور آدمی کے لیے اس کے مستقبل کو اتنا زیادہ پرکشش بنا دیتا ہے کہ وہ حال کے نقصان کو پوری رضامندی کے ساتھ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ کسی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صرف اُس وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اس کو زیادہ بڑا فائدہ ملنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابدی جنت کا تصور اتنا بڑا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز کو اس کے مقابلے میں چھوٹا کر دیتا ہے۔ جنت کا یہ تصور آدمی کے اندر اتھاہ حوصلہ پیدا کرتا ہے اور اس کو ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ تاریخ میں اصحاب رسول کا گروہ اس صبر و برداشت کی ایک معیاری مثال تھے۔ وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں میں عمل کا آغاز پارٹی سازی (party forming) سے کیا جاتا ہے، جب کہ اسپرچول ایکٹوزم، یا دعوہ ایکٹوزم میں عمل کا آغاز کردار سازی (character building) سے کیا جاتا ہے۔ دونوں تحریکوں کے درمیان یہ فرق کوئی سادہ فرق نہیں، یہ بے حد بنیادی فرق ہے اور اسی فرق کی وجہ سے دونوں کا معاملہ شروع سے آخر تک بدل جاتا ہے۔ پارٹی سازی سے آغاز کب ممکن ہوتا ہے۔ یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ عوام کے اندر ایسے لوگ موجود ہوں جو پہلے سے پارٹی کی فکر سے متفق ہوں اور اس بنا پر وہ پارٹی کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ جب تک لوگوں کے اندر پیشگی طور پر پارٹی کے موافق فضا موجود نہ ہو، پارٹی سازی سے آغاز ممکن نہیں۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

روسی لیڈر ولا دیمیر لینن (وفات (۱۹۲۴) نے ۱۹۰۳ میں کمیونسٹ پارٹی بنائی۔ اس پارٹی میں بہت سے لوگ شریک ہو گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کو بنانا کیوں کر ممکن ہوا ۔ وہ اس لیے ممکن ہوا کہ اس زمانے میں روس کے شہنشاہ زار (Nicholas II) کی نا کام حکومت کی بنا پر روس کے اقتصادی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ لوگوں میں عام طور پر حکومت کے خلاف بے چینی پائی جاتی تھی۔ لوگ حالات میں تبدیلی چاہتے تھے، اُس وقت لینن نے کمیونسٹ پارٹی بنائی تو لوگ تیزی سے اس میں شریک ہونے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page