Al-Risala · February 2007 · page 19

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹

لگے۔ ۔ کیوں کہ اپنے پیشگی جذبات کے تحت، وہ سمجھتے تھے کہ یہ پارٹی حالات کو بدلے گی اور ان کے مسائل کو حل کرے گی۔

یہی معاملہ تمام سیاسی تحریکوں کا ہوا ہے، خواہ وہ تشدد کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہوں یا عدم تشدد کی بنیاد پر۔ گویا کہ تمام وہ تحریکیں جنھوں نے پارٹی بنانے سے اپنے عمل کا آغاز کیا، وہ سب کی سب ردِ عمل کی تحریکیں تھیں، یعنی عوام کے اندر پائی جانے والی ناراضگی کو استعمال کر کے تحریک چلانا۔ انڈیا میں بھی ۱۹۴۷ سے پہلے جو سیاسی تحریک اٹھی، وہ برٹش راج کے خلاف عوام کی ناراضگی کو لے کر اٹھائی گئی۔ اسی لیے فوراً ہی اس کو عوام کے اندر مقبولیت حاصل ہوگئی۔

مگر اس قسم کی تمام تحریکیں منفی تحریکیں ہوتی ہیں، وہ کسی منفی نعرے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ مثلاً لینن کی پارٹی ’’ زار کو ہٹاؤ‘‘ کے نعرے پر کھڑی ہوئی، اور انڈین نیشنل کانگریس ’’ برٹش راج کو ختم کرو‘‘ کے نام پر کھڑی کی گئی۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ جو تحریک احساسات کو جگا کر اٹھائی گئی ہو، وہ پورے سماج کو منفی احساس میں جینے والا بنا دیتی ہے، اور جو لوگ منفی احساس میں جیتے ہوں، وہ کبھی مثبت سماج بنانے کا کام نہیں کر سکتے۔

اس معاملے میں ایک مسئلہ جنگ کا ہے۔ دعوہ ایکٹوزم میں جو اصول مقرر کیے گیے ہیں وہ سب کے سب اس تصور کے تحت مقرر کیے گیے ہیں کہ جنگ کے امکان کو آخری حد تک کم کر دیا جائے: By setting these principles, it has minimised the possiblity of war to the last extent. مثلاً دعوہ ورک کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مسائل کو نظر انداز کیا جائے، اور صرف ممکن دائرے میں اپنے عمل کا نقطہ آغاز تلاش کیا جائے۔ اسی طرح دعوہ ایکٹوزم کے نظریے میں دشمن اور حملہ آوار کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے تحت، صرف حملہ آور کے خلاف دفاعی جنگ کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، اُس سے ڈائیلاگ اور دوسری پر امن تدبیروں کی سطح پر معاملہ کرنا ہے نہ کہ ٹکراؤ کی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page