Al-Risala · February 2007 · page 20

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰

اسی طرح دعوہ ایکٹوزم کی آئیڈیالوجی میں نشانہ فرد کو بنایا گیا ہے نہ کہ سسٹم کو۔ یہ اصول بھی متشددانہ ٹکراؤ کو عملی طور پر صفر کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ، یا متشد دانہ ٹکراؤ صرف اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ سسٹم کو توڑنے کی کوشش کی جائے۔ اگر اپنے عمل کا نشانہ سسٹم کے بجائے فرد کو بنا دیا جائے تو جنگ اپنے آپ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ اسپرچول ایکٹوزم یا دعوہ ایکٹوزم کے طریقے میں یہ انوکھی صفت ہے کہ جنگی حالات کے باوجود اس کا عمل جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز دعوہ پر اس کے لیے رُکاوٹ نہیں بنتی۔ اس کی ایک مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ اسلام نظریاتی اعتبار سے ایک انقلابی فکر کا حامل ہے، یعنی کئی خداؤں کی پرستش کو چھوڑ کر ایک خدا کی پرستش کی طرف لوگوں کو بلانا۔ اسلام کے اس انقلابی کیریکٹر کی بنا پر وقت کے حکمراں طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی، حتیٰ کہ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی، مگر ان جنگی حالات کے باوجود اسلام فکری طور پر پھیلتا رہا، اسلام کے فکری پھیلاؤ کو کوئی چیز روک نہ سکی۔ اس حقیقت کا اعتراف اکثر مؤرخین نے کیا ہے۔

سر آر تھر کیتھ (Keith) ایک برٹش اسکالر تھے۔ وہ مصریات(Egyptology) کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے قدیم مصر کے بارے میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اسلام کی پر امن اشاعت کے معاملے کو اس طرح بیان کیا ہے ۔ مصریوں کو جس چیز نے فتح کیا وہ مسلمانوں کی تلوار نہیں تھی، بلکہ وہ قرآن تھا :

The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Quran. اسی کا نام دعوہ ایکٹوزم ہے۔ دعوہ ایکٹویزم کا اعتماد، گن یا پولیٹکل پاور پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اعتماد دل اور دماغ پر ہوتا ہے۔ دل اور دماغ کو فتح کرنا، دعوہ ایکٹویزم کا اصل نشانہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود اس کے مائنڈ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ مائنڈ ہمیشہ چیزوں کو ریزن اور لاجک پر جانچتا ہے۔ جب کوئی چیز ریزن اور لاجک پر ثابت شدہ بن جائے تو انسان اس کو افورڈ نہیں کر سکتا کہ وہ اُس کے آگے سرینڈر نہ کرے۔ تلوار کسی انسان کی گردن مار سکتی ہے، لیکن لاجک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page