Al-Risala · February 2007 · page 21

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

اور ریزن انسان کے دماغ کو مسخر کر لیتی ہے، اور جب دماغ مسخر ہو جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز مسخر کرنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔

پوری تاریخ میں لوگ دوست اور دشمن کی ڈائکاٹمی میں جیتے رہتے ہیں، وہ کسی کو اپنا دوست سمجھ لیتے ہیں اور اُس کے ساتھ نارمل طریقے سے رہتے ہیں، اور کسی کو اپنا دشمن کہہ دیتے ہیں اور اس کو غیر سمجھ کر اس کے ساتھ غیر معتدل معاملہ کرتے ہیں، مگر دعوہ ایکٹوزم کے طریقے میں یہ ڈائکاٹمی غیر حقیقی ہے۔ دعوہ ایکٹوزم کے تصور کے مطابق، صحیح ڈائکاٹمی یہ ہے کہ ہر آدمی یا تو ہمارا ایکچول دوست ہے، یا وہ ہمارا اپوٹنشیل دوست۔ یعنی جو شخص آپ کو بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دیتا ہے، وہ بھی امکانی طور پر آپ کا دوست ہے۔ کیوں کہ یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے آپ اس کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں۔

یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ادفع بالتی هی احسن، فاذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم (حم السجده ۳۴) یعنی اپنے دشمن کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو، پھر تم دیکھو گے کہ جو شخص تمھارا دشمن نظر آتا تھا، وہ تمھارا قریبی دوست بن گیا ہے۔ اس لیے دعوہ ایکٹوزم کا نظریہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پوٹینشل کو ایکچول بنانے کی کوشش کرو، اپنے آج کے دشمن کو اپنا کل کا دوست بناؤ۔

دعوت ایکٹوزم کی آئیڈیالوجی اِسی انسان فرینڈلی (Human friendly) اصول پر مبنی ہے۔ دعوہ ایکٹوزم کا انسان فرینڈلی تصور ایک آفاقی تصور ہے۔ اِس آفاقی تصور کے دائرے میں نہ صرف عام انسان بلکہ دشمن جیسے لوگ بھی یکساں طور پر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ دعوہ ایکٹوزم کا آغاز اِس مثبت تصور پر ہوتا ہے کہ ساری دنیا میری دوست ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ اُن میں سے کوئی ایکچول دوست ہے اور کوئی پوٹینشل دوست۔

آفاقی انسانیت کا تصور منفی سوچ کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ جو لوگ اِس تصور سے متاثر ہوتے ہیں، وہ مکمل طور پر مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ دعوہ ایکٹوزم کے تصور کے تحت جو کلچر فروغ پاتا ہے، وہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page