Al-Risala · February 2007 · page 38

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸

اہلیہ کی وفات

۲۵ دسمبر ۲۰۰۶ء کی صبح کو میری اہلیہ سابعہ خاتون کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً ۸۰ سال تھی۔ ان کا پہلا نکاح میرے چچازاد بھائی نظام الدین خاں سے ہوا تھا۔ ان سے ایک بچی بھی پیدا ہوئی تھی، مگر نظام الدین خاں اور بچی دونوں جلد ہی وفات پاگیے۔ ان سے میرا نکاح جولائی ۱۹۴۲ میں ہوا۔ وفات سے پہلے اور وفات کے بعد کئی لوگوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت کے باغوں میں ہیں۔ مرحومہ کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ ان کے اندر بے پناہ صبر و شکر تھا۔ میں اپنے مشن کی بنا پر ساری عمر دیوانے کی مانند رہا۔ یہاں تک کہ میرے خاندان کے لوگ مجھ کو مجنوں (mad) کہنے لگے۔ میری یہ حالت شروع سے آخر تک باقی رہی۔ مرحومہ نے کامل صبر کے ساتھ اس کو برداشت کیا۔ انھوں نے نہ کبھی مجھ سے شکایت کی اور نہ کسی اور سے۔ میرے مشن میں ان کا حصہ اتنا زیادہ ہے کہ شاید ان کے بغیر میرا مشن وجود ہی میں نہ آتا۔

اس معاملے میں جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی اور مشن میں تین خواتین کا بے حد اہم حصہ ہے۔ میری ماں زیب النساء (وفات: ۱۹۸۵)، میری اہلیہ سابعہ خاتون اور میری لڑکی فریدہ خانم۔

میری بیوی اکثر یہ کہتی تھیں کہ۔ آپ کو لکھنے پڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ یہ بات بالکل لفظی طور پر درست ہے۔ میری اس نااہلی کی تلافی مذکورہ تینوں خواتین نے کی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی انتظام تھا کہ اُس نے ان تین خواتین کے ذریعہ میری نااہلی کی تلافی کا انتظام فرمایا۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ۔ ہر بڑی چیز کے آغاز میں ایک عورت ہوتی ہے:

There is a woman at the beginning of all great things. میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میری زندگی اور میرا مشن جو کچھ ہے، وہ انھیں تین خواتین کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر یہ تین فرشتہ صفت خواتین مجھ کو نہ دی ہوتیں تو میں کچھ بھی نہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page