Al-Risala · February 2007 · page 39

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹

ہوتا اور نہ میرا دعوتی مشن وجود میں آتا۔ میں نے اپنی کتاب ’’عورت: معمار انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی انسان کے لیے بہترین ذہنی رفیق (intellectual partner) ہے۔ میرا احساس ہے کہ تاریخ میں غالباً میں پہلا شخص ہوں جس نے عورت کی اس خصوصی اہمیت کو دریافت کیا۔ میری یہ دریافت خلا میں نہیں ہوسکتی تھی، اور نہ کتابوں کے ذریعہ، کیوں کہ کتابوں کے ذخیرے میں یہ تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ عظیم دریافت مذکورہ تین خواتین سے تعلق کے دوران میرے لیے ممکن ہوسکی۔

۲۵ دسمبر کو قبرستان پنج پیراں (نئی دہلی) کی مسجد میں مرحومہ کی نمازِ جنازہ ہوئی، مولانا محمد ہارون صاحب (امام کلاں مسجد) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد ہم لوگ تدفین کے مقام پر پہنچے۔ قبر کھودی جا چکی تھی۔ جب مرحومہ کے کپڑے میں لپٹے ہوئے جسم کو قبر میں اتارا گیا تو مجھ پر عجیب احساس طاری ہوا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ پوری انسانیت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور وہ آخری طور پر موجودہ دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں جارہی ہے۔ میرا یہ احساس اُس وقت شدید ہو گیا جب کہ تدفین کے وقت میں نے حسبِ قاعدہ قبر میں تین مٹھی مٹی ڈالتے ہوئے کہا: منها خلقناكم وفيها نعودكم ومنها نخرجكم تارة أخرى (طٰه: ۵۵) مجھے یاد آیا کہ 1965 میں جب کہ میں لکھنؤ میں تھا، مرحومہ کی طبیعت کافی خراب ہوگئی۔ میں ان کے طبی معائنے کے لیے انھیں ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے مطب (حضرت گنج) میں لے گیا۔ انھوں نے دیکھنے کے بعد فوراً کہا— آپ نے بہت دیر کر دی: You are too late عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کا انتقال ۱۹۷۴ میں ہو گیا ۔ اور ان کے انتقال کے ۳۲ سال بعد مرحومہ کی وفات ہوئی۔ مرحومہ کی صحت بہت عرصے سے خراب رہتی تھی۔ مشن کے اعتبار سے میری زندگی کا جو طریقہ بنا، اس کی وجہ سے ان کو بہت سی مشکلات پیش آئیں۔ آخر میں ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہو چکی تھی ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کی پوری زندگی ایک پر مسئلہ زندگی بن کر رہ گئی۔ وہ ۶۳ سال تک میری زندگی کی رفیق بنی رہیں ۔ اس کو سوچتے ہوئے میرے ذہن میں خیالات کا طوفان آگیا۔ میں نے سوچا کہ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جو اعلیٰ معیار کی حد تک مکمل ہے، دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page