Al-Risala · February 2007 · page 40

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

کی اس معیاری صفت کو شعوری طور پر صرف انسان جانتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود انسان اپنی پسند کے خلاف غیر معیاری زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ انسان اور بقیہ کائنات کے درمیان یہ فرق کتنا عجیب ہے۔ ۶۳ سالہ رفاقت کی داستان بہت لمبی ہے۔ کسی وقت انشاء اللہ اس کو تحریر کروں گا۔ یہاں یک واقعے کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ واقعہ میرے مشن میں ایک بنیادی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں ۲۴ جون ۱۹۷۲ کو دہلی آیا۔ اُس وقت میں یہاں الجمعیۃ ویکلی سے وابستہ تھا۔ اس کے تحت مجھے جمعیۃ بلڈنگ (دہلی) میں دفتر کے طور پر ایک کمرہ دیا گیا تھا۔ میں یہاں اس طرح تھا کہ ہر دن یہ سوچتا تھا کہ مجھے دہلی سے واپس چلا جانا چاہیے۔ اچانک ایک دن میں نے دیکھا کہ میرے تین بچے اُم السلام اور فریدہ خانم اور ثانی اثنین میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ تم لوگ یہاں کیسے آئے ۔ بچوں نے بتایا کہ والدہ کے ساتھ۔ اس کے بعد میری بیوی کمرے میں داخل ہوئیں۔ اُس وقت میرے پاس دہلی میں رہنے کے لیے ایک چھوٹے کمرے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ میں سخت پریشان ہوا۔

غصے کی حالت میں یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر چلا گیا کہ ــــ اس طرح کوئی ایسا شخص ہی آ سکتا ہے جو یا تو پاگل ہو، یا جس کے پاس کوئی گھر نہ ہو۔ یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر چلا گیا اور شہر کی ایک مسجد میں گم نام طور پر رہنے لگا۔ تین دن کے بعد مجھے احساس ہوا تو میں دوبارہ اپنے کمرے میں واپس آیا۔ اصل یہ ہے کہ میری بیوی کو یقین تھا کہ میں خود سے کبھی ان کو دہلی نہیں بلاؤں گا۔ اُس وقت وہ یوپی کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ وہاں بچوں کی تعلیم نہ ہو سکے گی ۔ اس لیے وہ ایک طرفہ فیصلے کے تحت دہلی آگئیں۔ ان کا یہ خیال بالکل درست تھا۔ دہلی آنے کی وجہ ہی سے ایسا ہوا کہ میرے بچوں کی باقاعدہ تعلیم مکمل ہوسکی۔

اسی کے ساتھ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے دارالسلطنت میں الرسالہ مشن کی بنیاد پڑی۔ اگر وہ اس طرح دہلی نہ آتیں اور دہلی کے قیام پر اصرار نہ کرتیں تو الرسالہ مشن کبھی شروع نہ ہوتا۔ اور دعوت کا وہ کام انجام نہ پاتا جو دہلی کے قیام کے دوران خدا کی خصوصی توفیق سے انجام پایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page