اہلیہ کی وفات
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱
خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۷۸
۱۔ انڈیاٹی وی (نئی دہلی) نے ۲۹ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو طلاق کے مسئلے کے بارے میں تھا۔ سوال اور جواب کے دوران بتایا گیا کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا طریقہ سرتا سر غیر اسلامی ہے۔ طلاق کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تین مہینے میں اس کو دیا جائے ۔ اس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ دونوں کے جذبات معتدل ہو جائیں اور وہ رجوع کر کے باہم موافقت کے ساتھ رہ سکیں۔
۲۔ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اَمت بھٹا چاریہ نے ۲ اکتوبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اسلام میں عورت کے مقام کے بارے میں تھا۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کے سوالات کا جواب دیا گیا۔
۳۔ آکاش وانی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر راجیو ملک نے ۸ اکتوبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ سوال کا تعلق مہاتما گاندھی کی ستّیہ گرہ سے تھا۔ ستّیہ گرہ کا مطلب ہے: سچائی پر جمنا۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں وتواصو بالحق وتواصوا بالصبر (العصر) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سچائی اپنے آپ میں ایک طاقت ہے۔ بشرطیکہ آدمی امن کے اصول پر قائم رہے۔ ۴۔ دور درشن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت ایک پروگرام تھا۔ یہ رمضان کے روزے کے بارے میں تھا۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ روزہ سیلف ڈسپلن کی تربیت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ رمضان کے مہینے کو حدیث میں شہر المواساة (month of philanthropy) کہا گیا ہے، یعنی انسانی ہمدردی کا مہینہ۔ اس مہینے میں روزے داروں کے جذبات میں خصوصی طور پر عام انسانوں کے لیے ہمدردی کے احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ لوگ زیادہ سے زیادہ رفاہی کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وغیرہ۔ ۵۔ ۱۴ راکٹو بر ۲۰۰۶ کو امریکا کے ایک ٹی وی آرگنائزیشن کی ٹیم مرکز میں آئی۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ انٹرویو ر کا نام مرتیری (Teri C.Mcluhan) تھا۔ اس آرگنائزیشن کا نام یہ تھا: Peace on earth productions, New York. انٹرویو کا موضوع بنیادی طور پر ” اسلام اور امن “ تھا۔ سوال اور جواب کی صورت میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس وقت مسلمانوں کی طرف سے مختلف مقامات پر تشدد کے جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ سرتا سر اسلام کے خلاف ہیں۔ اسلام کے مطابق، جہاد پر امن عمل کا نام ہے نہ کہ متشددانہ عمل کا۔ ۶۔ نئی دہلی (دریا گنج) میں ایک پبلشنگ ادارہ ہے جس کا نام ” وزڈم ٹری“ (wisdom tree) ہے۔ اس کے تحت، ایک کتاب چھپی ہے۔ جس کا نام یہ ہے:
A Surprise Way to Listen to Intuition and Do Business Better. by Arupa Tesolin.
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues