Al-Risala · February 2007 · page 42

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

۱۸؍اکتوبر ۲۰۰۶ کو اشوک ہوٹل (نئی دہلی) کے ایک ہال میں مذکورہ کتاب کے اجرا کا ایک فنکشن تھا۔ اس موقع پر تین تقریر ہوئی۔ کتاب کی مصنّفہ کی، اور ڈاکٹر کرن بیدی کی، اور صدر اسلامی مرکز کی۔ کتاب کی مصنفہ کناڈا سے تعلق رکھتی ہیں اور آج کل وہ نیویارک (امریکا) میں رہتی ہیں۔ وہ اس فنکشن میں شرکت کے لیے نیویارک سے انڈیا آئی تھیں۔ صدر اسلامی مرکز نے جو تقریر کی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انٹیوشن (intuition) ایک خدائی آواز ہے۔ اگر آدمی اپنے دل و دماغ کو پاک وصاف رکھے تو وہ انٹیوشن کی صورت میں خدا کا انسپریشن پا تارہتا ہے۔ ۷۔ زی نیوز (نئی دہلی) نے ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر رویت ہلال کے مسئلے سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں اصل بات چاند کا ہو جانا ہے، نہ کہ دیکھنا۔ چاند کو دیکھنا اس معاملے میں اضافی ہے۔ ایلاء کے واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے موجودہ زمانے میں فلکیاتی حساب کا اعتبار کرتے ہوئے چاند کا تعین حتمی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ ۸۔ بی بی سی لندن کی نمائندہ مزماہ پارہ صفدر نے ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۶ کو لندن سے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسلام میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حال میں حکومت ہند نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق ، کسی مرد کے لیے اپنی عورت کو مارنا سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر سخت سزا اور جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ یہ قانون اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اسلام میں تو مرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ عورت کو مار سکتا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ قانون اسلام کے خلاف تو نہیں، البتہ وہ عقل کے خلاف ہے۔ کیوں کہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کا معاملہ اخلاق سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ قانون سے۔ یہ مقصد اخلاقی شعور کو بیدار کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے نہ کہ کسی قانون کو نافذ کر کے، اور جہاں تک قرآن (النساء ۳۴) میں عورت کو مارنے کی بات ہے، اس کا مطلب مارنا نہیں ہے بلکہ صرف علامتی تنبیہہ ہے۔ جیسے کہ ٹوٹھ برش کے ذریعے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا۔ کیوں کہ اسلام میں متشددانہ سزا کا حق صرف عدالت کو ہے، افراد کو نہیں۔

۹۔ انڈیا ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر شہاب صدیقی نے ۲۷؍اکتوبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک مسلم خاتون نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مسلم خواتین کو برقع نہیں پہننا چاہئے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ برقع محض ایک کپڑے کا نام نہیں ، برقع دراصل ایک کلچر کی علامت ہے۔ خواتین کے معاملے میں اسلام کی تعلیمات اس اصول پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں کے حدود الگ الگ رہنے چاہییں۔ اسی کلچر کو علامتی طور پر’’ پردہ کلچر‘‘ کہا جاتا ہے۔

۱۰۔ ۲۷؍اکتوبر ۲۰۰۶ کی شام کو ’’پی ہوئ ہوم‘‘ بٹلہ ہاؤس (نئی دہلی) میں ایک پروگرام ہوا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ اس پروگرام کے ذمے دار ڈاکٹر ظفر محمود تھے۔ یہ پروگرام دراصل ناروے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page