Al-Risala · February 2007 · page 43

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳

(اسکینڈی نیویا) کے ایک صاحب کی آمد پر ہوا تھا۔ ان کا نام اور پتہ یہ ہے:

Arne Saeveras. Special Advisor Peace and Reconciliation Norwegian Church AID, Norway. اس کا موضوع یہ تھا کہ اسلام کے بارے میں پوپ کا بیان (۱۲ ستمبر ۲۰۰۶) پر علماءِ اسلام کا رد عمل ہے۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ پوپ کی تقریر کا پورا ٹیکسٹ میں نے پڑھا۔ میں کہوں گا کہ یہ ایک غلط فہمی کا معاملہ ہے نہ کہ عناد کا معاملہ۔ اور یہ غلط فہمی خود مسلمانوں کی اُن مسلح کارروائیوں سے ہوئی ہے جن کو وہ اسلامی جہاد کے نام پر کرتے ہیں۔ اِس لیے اصل کام غلط فہمی کو دور کرنا ہے، نہ کہ پوپ کی مذمت کرنا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ شرکا کو کچھ انگریزی کتابیں بھی مطالعے کے لیے دی گئیں۔

۱۱۔ انڈیا ٹی وی، اور این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۲ /اکتوبر ۲۰۰۶ کوفتویٰ کی حقیقت کے بارے میں صدرِ اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان سے یہ کہا گیا کہ فتویٰ یا دارالافتا، کوئی متوازی عدالت نہیں ہے۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ مسلمانوں کے مخصوص مذہبی معاملات میں ان کو شرعی رہنمائی دی جائے۔ جہاں تک ملکی قانون کا تعلق ہے، وہ مسلمانوں پر بھی اُسی طرح عائد ہوتا ہے، جس طرح وہ ملک کے دوسرے فرقوں پر عائد ہوتا ہے۔ ۱۲۔ ۲۹ /اکتوبر ۲۰۰۶ کو بی بی سی لندن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ایک پروگرام ہوا۔ صدرِ اسلامی مرکز کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مختلف بیرونی مقامات کے لوگ ٹیلی فون پر سوال کر رہے تھے اور صدرِ اسلامی مرکز، دہلی کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر ان کا جواب دے رہے تھے۔ یہ پروگرام آدھ گھنٹے کا تھا۔ سوالات کا تعلق’’ ہندوستان اور شرعی قانون‘‘ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، اس لیے جب ملکی قانون اور شرعی قانون میں ٹکراؤ ہوگا تو اس کے فیصلے کا حق عدالت کو ہوگا۔ کسی فریق کو اس کے فیصلے کا حق نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو جانیں۔

۱۳۔ نئی دہلی کے ٹی وی چینل ٹائمس ناؤ (Times Now) کی ٹیم نے ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۶ کو صدرِ اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر مسٹر تابش نصیر (9818914936) تھے۔ سوال کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ اسلام میں عورت کا شرعی پردہ کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے کہ مسلم خاتون کو اپنا چہرہ ڈھکنا چاہیے۔ فقہ حنفی کے مطابق، وجہ اور کفین اور قدمین پردے سے مستثنیٰ ہیں۔ عورت کا اصل پردہ یہ ہے کہ اس کا ڈریس ماڈیِسٹ ڈریس (modest dress) ہو، یعنی وہ پورے جسم کو کور کرتا ہو، ڈھیلا ڈھالا ہو اور بھڑک دار نہ ہو، جسم کے حصے نمایاں نہ ہوتے ہوں، یہی اصل شرعی پردہ ہے۔

۱۴۔ جن مت ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۲ نومبر ۲۰۰۶ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس میں اینکر کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page