Al-Risala · February 2007 · page 44

اہلیہ کی وفات

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

علاوہ تین پولیٹکل پارٹیوں کے نمائندے شریک تھے۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندے کا حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر دو مسئلے زیر بحث آئے۔ ایک، یہ کہ فتویٰ کے حدود کیا ہیں۔ صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ فتویٰ کا تعلق کسی کے ذاتی مسئلے کے بارے میں مفتی کی اپنی رائے دینا ہے۔ جہاں تک سماجی اور فوج داری معاملات کا تعلق ہے، وہ فتویٰ کے حدود سے باہر ہے۔ ایسے معاملات میں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ دوسرا مسئلہ، مسلمان اور رزرویشن کے بارے میں تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ مسلمانوں کا مسئلہ رزرویشن سے حل ہونے والا نہیں۔ اس مسئلے کے حل کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ ۱۵۔ زی نیوز ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۵ نومبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو ٹیپ ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر صدام حسین کے بارے میں عدالتی فیصلے سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ مسائل سے اعراض کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ صدام حسین نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ مواقع کو نظر انداز کر کے وہ مسائل سے لڑتے رہے۔ اس قسم کی پالیسی کا نتیجہ ہمیشہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔ ۱۶۔ عراق کی عدالت کے سابق صدر صدام حسین کے لیے پھانسی کی سزا کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۶ کو اسٹار ٹی وی (نیوز) کی ایک ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ کہی گئی کہ صدام حسین کے لیے بہتر یہ تھا کہ وہ پولیٹکل گدی کو چھوڑ کر کوئی تعمیری کام کرتے۔ امریکا کے سابق صدر جیفرسن (۱۸۲۶) نے آٹھ سال امریکا میں حکومت کی۔ اس کے بعد انھوں نے سیاست کو چھوڑ کر ایک یونیورسٹی بنوائی جو یونیورسٹی آف ورجینیا کے نام سے مشہور ہے۔ صدام حسین نے عراق میں ۲۴ سال تک حکومت کی۔ ان کے پاس بہت بڑے بڑے آٹھ محل تھے۔ وہ ایسا کر سکتے تھے کہ سیاسی عہدہ چھوڑ کر آٹھ کالج یا یونیورسٹی بنائیں۔ یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہوتا لیکن وہ ”ام المعارک“ کی جذباتی تقریریں کرتے رہے اور آخر کار عراق کو کچھ دیے بغیر ختم ہوگئے۔ ۱۷۔ سائی انٹرنیشنل (نئی دہلی) میں ۸ نومبر ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں ملک بھر سے کیندریہ ودّیالیہ کے پرنسپل بلائے گئے تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں انھوں نے ”بیسک ہیومن ویلو زان اسلام“ کے موضوع پر ایک تقریر کی اور آخر میں سوالات کے جواب دیے۔

۱۸۔ بی بی سی لندن (اردو سکشن) نے ۱۶ نومبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا، انٹرویو کا موضوع ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے رزرویشن کا مسئلہ تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ رزرویشن کی بات صرف ایک سیاسی اشو ہے، مسلمانوں کی حقیقی ترقی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ترقی کا تعلق کسی لا آف لینڈ سے نہیں ہے بلکہ لا آف نیچر سے ہے۔ زندگی کا مقابلہ پن کے اصول پر قائم ہے۔ مسلمانوں کو جدوجہد کر کے ترقی مل سکتی ہے۔ رزرویشن اور رعایت سے نہیں۔

۱۹۔ انٹرفیتھ کولیشن فار پیس (Interfaith Coalition for Peace) کی طرف سے ۲۵ نومبر ۲۰۰۶

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page