Al-Risala · January 2008 · page 9

تواضع ایک عظیم عبادت

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۹

پیغمبروں کے ذریعے خالق نے زندگی کے بارے میں اپنا جو تخلیقی پلان بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کے طور پر پیدا کیا۔ پھر اُس کی عمر کے ایک مختصر حصے کو قبل از موت مرحلہ حیات (pre-death period) میں رکھا اور اُس کی عمر کے بقیہ طویل حصے کو بعد از موت مرحلہ حیات (post-death period) میں رکھ دیا۔ قبل از موت مرحلہ حیات، ٹسٹ (test) کا مرحلہ ہے اور بعد از موت مرحلہ حیات، ٹسٹ کے مطابق بدلہ پانے کا مرحلہ۔ جب انسانی تاریخ کا خاتمہ ہوگا، اُس وقت وسیع پیمانے پر ایک روزِ جزا (day of judgement) واقع ہوگا۔ اُس وقت انسانوں کا خالق ظاہر ہو کر تمام لوگوں کو اُن کی زندگی کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق، ان کو انعام یا سزا دے گا۔ انعام پانے والوں کے لیے ابدی جنت ہے اور سزا پانے والوں کے لیے ابدی جہنم۔ خدا کے اِس تخلیقی پلان کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکता ہے کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے میں انسان کا رویہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے، اور اس کو غلط زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو انسان کے اپنے ذاتی زاویے سے دیکھا جائے۔ یہی وہ چیز ہے جو اس دنیا میں انسان کے رویے کو یا تو درست بناتی ہے، یا وہ اس کو غلط بنا کر رکھ دیتی ہے۔

اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں دو مختلف رویے بنتے ہیں۔ خالق کے پلان کے مطابق جو رویہ بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نظام کو ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) سمجھا جائے۔ اس کے برعکس، انسان کے ذہن سے دیکھنے کی صورت میں وہ صرف ایک انجوائے سپورٹ سسٹم (enjoy support-system) بن کر رہ جاتا ہے۔ پہلی صورت میں زندگی ایک ذمّے داری (responsibility) کا معاملہ قرار پاتی ہے، اور دوسری صورت میں زندگی کا مقصد گھٹ کر صرف اس حیوانی سطح پر آ جاتا ہے کہ کھاؤ، پیو اور خوش رہو، اور اسی حال میں مر جاؤ۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے انسانی زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کی معنویت ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مقصد حیات

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page