Al-Risala · January 2008 · page 8

تواضع ایک عظیم عبادت

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۸

انسان کو ملا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ انسان اس انعام میں اس کے منعم کو پہچانے، وہ اس انعام پر اس کے دینے والے کا اعتراف کرے، وہ اُس کے سامنے پورے دل و دماغ کے ساتھ جھک جائے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دینے والے نے یہ انوکھا تحفہ اس کو کیوں دیا ہے۔ اور پھر دینے والے کی منشا کے مطابق، وہ اس کو استعمال کرے، وہ اس کی منشا کو جان کر اُس کے مطابق یہاں زندگی گزارے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ انسان اس زمین پر زندگی گزارتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے ایک تہذیب کی تشکیل کرتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے شان دار مستقبل بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ اس بات کو جاننے کی کوشش کرے کہ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ انوکھا نظام کس نے بنایا ہے، اور یہ بنانے والا اس کے بدلے میں انسان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں— اُس کا درست استعمال، اور اس کا نادرست استعمال۔ مثلاً پیدا کرنے والے نے زمین میں لوہا پیدا کیا۔ لوہے کا ایک استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے مفید مشین بنائی جائے ۔ اور لوہے کا دوسرا استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے تباہ کن ہتھیار بنایا جائے مشین بنانا، لوہے کا درست استعمال ہے، اور ہتھیار بنانا، لوہے کا نادرست استعمال۔ یہی معاملہ لائف سپورٹ سسٹم کا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کو صحیح زاویہ (right angle) سے دیکھا جائے، اور دوسرے یہ کہ اُس کو غلط زاویہ (wrong angle) سے دیکھا جائے ۔ صحیح زاویے سے دیکھنے والا آدمی لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں اپنے صحیح اور مطلوب رویّے کو جان لے گا، اور جو شخص لائف سپورٹ سسٹم کو غلط زاویے سے دیکھے، اس کے بارے میں اس کا رویّہ بھی ہر اعتبار سے غلط رویّہ ہو جائے گا۔

لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں صحیح زاویے اور غلط زاویے کا تعین کیسے ہو۔ اس کے تعین کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ خالق (Creator) کا اپنا مقرر کیا ہوا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔ اس تخلیقی پلان ہی کے ذریعے یہ معلوم ہوگا کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں ہمارا کون سا رویّہ درست تھا اور کون سا رویّہ نادرست۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page