جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۷
حضرت حسین کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کو آج کل کی زبان میں فرضی مڈ بھیڑ (fake encounter) کہا جاتا ہے۔ چناں چہ شمر ذی الجوشن نے حضرت حسین کی آمادگی کے بغیر ان کو لڑنے پر مجبور کیا اور پھر انھیں قتل کر ڈالا۔
حسین بن علی کے معاملے میں جو اصل واقعہ پیش آیا، اُس کو تاریخ طبری یا البدایہ والنہایہ، وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کی رضامندی کے بغیر ایک سرکش آدمی نے حسین کو گھیر کر انھیں قتل کر دیا۔ موجودہ زمانے میں جس طرح حسین کی شہادت کے عنوان سے اُس کو بیان کیا جاتا ہے اور شاعری اور انشا پردازی کی زبان میں اُس کو جس طرح گلوری فائی کیا جاتا ہے، وہ تمام تر حسین کی خود ساختہ تصویر ہے، اُس کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل حقیقت بدستور یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ سو سال تک ایسا نہیں ہوا کہ علما سیاسی بگاڑ کے نام پر وقت کے حکم رانوں سے لڑائی کریں۔ اس کے بجائے، انھوں نے یہی کیا کہ حکّام سے عدم تعرض کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو علمی اور دینی اور دعوتی کاموں میں مشغول رکھا۔
4- یہ تاریخ اٹھارھویں صدی عیسوی کے آخر میں بدلتی ہے۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ مسلم حکم راں تمام سیاسی اور فوجی معاملات سے نبٹتے رہے، لیکن اٹھارھویں صدی میں مغربی قوموں کے ظہور کے بعد علما نے محسوس کیا کہ اب مسلم حکم راں اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مثلاً عثمانی ترکوں کے بحری بیڑے کو اٹھارھویں صدی کے آخر میں مغربی قوموں نے تباہ کر دیا۔ 1799ء میں انگریزوں نے میسور کے سلطان ٹیپو کو ہلاک کر دیا۔ ہندوستان میں 1857ء میں برٹش فوج نے مغل سلطنت کا خاتمہ کر دیا، وغیرہ۔
اس طرح کے واقعات کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ مسلم علما نے محسوس کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ کریں۔ جس کام کو مسلم حکم راں انجام نہ دے سکے، اُس کو وہ اپنی مسلح مداخلت کے ذریعے انجام دیں۔ اس طرح، اسلامی تاریخ میں پہلی بار انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے اپنے دائرے سے نکل کر مسلح سیاست کے دائرے میں قدم رکھ دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues