جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۸
میں ذاتی طور پر اس کو مبتدعا نہ سیاست سمجھتا ہوں ۔ یہ اسلام میں بلاشبہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ اس سیاسی بدعت کا آغاز غالباً سب سے پہلے انڈیا میں ہوا۔ 1831 میں سید احمد بریلوی (وفات: 1831) اور اُن کے ساتھیوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ وہ اور اُن کا حلقہ واضح طور پر ایک غیر حکومتی گروہ کی حیثیت رکھتا تھا، اس اعتبار سے انھیں مسلح جہاد کا کوئی حق نہ تھا۔ مگر ان کا خیال تھا کہ مغل حکومت اتنی زیادہ کم زور ہو چکی ہے کہ وہ پیدا شدہ مسائل سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ اُن کا یہ اقدام دینی اعتبار سے سیاسی بدعت اور عقلی اعتبار سے سیاسی نادانی کی حیثیت رکھتا تھا، کیوں کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج نہایت طاقت ور فوج تھی۔ مہاراجا نے فرانس کے رٹائرڈ جزلوں کو بلا کر اپنی فوج کو ٹرینڈ کیا تھا۔ چناں چہ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کا پورا قافلہ بالا کوٹ کے میدان میں ہلاکت کا شکار ہو کر رہ گیا۔
اس کے بعد 1857ء میں سہارن پور (دیو بند) کے علما نے برٹش گورنمنٹ کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس موقع پر طاقت کا توازن انتہائی غیر متناسب طورپر برطانیہ کے حق میں تھا۔ چناں چہ دوبارہ یک طرفہ تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔
انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں اس طرح کے کئی واقعات عالم اسلام میں ہوئے۔ مثلاً مہدی سوڈانی (وفات: 1885 ء) نے سوڈان ( افریقہ) کے علاقے میں برٹش راج کے خلاف مسلح جہاد کیا، حالاں کہ اُن کو حکومتی حیثیت حاصل نہ تھی۔ اس اقدام میں اُنھیں ابتدائی طور پر کچھ کامیابی ہوئی، مگر بعد کو لارْڈ کچنر (Horatio Hebert Kitchner) نے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کر کے مہدی سوڈانی کی ’’بغاوت‘‘ کو کچل دیا۔ لارْڈ کچنر کو 1898ء میں برطانیہ کی طرف سے سوڈان کا گورنر جنرل بنایا گیا۔
اسی طرح غیر حکومتی افراد کی طرف سے مسلح جہاد کا ایک معاملہ وہ ہے جو لیبیا میں پیش آیا۔ 1911 ء میں اٹلی نے سمندری راستے سے لیبیا پر حملہ کیا اور اُس پر اپنا قبضہ کر لیا۔ میں نے فروری 1976ء کے سفر میں وہ وسیع مکان دیکھا، جس میں اٹلی کا گورنر رہتا تھا۔ اس مکان کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues