جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۹
اب قومی میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ اٹلی کا یہ قبضہ 1911ء سے 1943ء تک باقی رہا۔ اٹلی کے قبضے کے دوران یہاں مجاہدین کا ایک گروہ پیدا ہوا۔ یہ بھی غیر حکومتی گروہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ انھوں نے اٹلی کے قبضے کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس گروہ کے لیڈر احمد الشریف السنوسی (وفات: 1933) تھے۔ اس ٹکراؤ میں مذکورہ گروہ نے غیر معمولی قربانیوں کا ثبوت دیا، لیکن انھیں اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس میوزیم میں ان مجاہدین کے کچھ آثار رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کتبہ وہ ہے جس کے اوپر یہ نعرہ لکھا ہوا ہے: مُوتوا اليوم أعزاء، قبل أن تموتوا غداً أذلّاء ( آج عزت کے ساتھ مرجاؤ، قبل اس کے کہ کل تمھیں ذلت کے ساتھ مرنا پڑے)۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ ان عرب مجاہدین کے نزدیک، اُن کے لیے لیبیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) تھا، یعنی بے عزتی کی زندگی جینا، یا عزت کے ساتھ مرجانا۔ مگر یہ صرف ایک ثنائی سوچ (dichotomous thinking) تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے لیے ایک تھرڈ آپشن (third option) بھی وہاں موجود تھا، جو بلاشبہ اُن کے لیے زیادہ بہتر تھا، اور وہ تھا— سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے غیر سیاسی میدان میں تعمیری کام کرنا۔ مثلاً تعلیم، دعوت، جدید ٹکنالوجی کو اقتصادی ترقی میں استعمال کرنا، وغیرہ۔
یہی معاملہ فلسطین میں پیش آیا۔ بالفور ڈیکلریشن (Balfour Declaration) کے تحت، فلسطین کے ایک حصے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ یہ 1948 کا زمانہ تھا۔ اُس وقت حسن البنا (وفات: 1949) اور الاخوان المسلمون نے قاہرہ کی سڑکوں پر بہت بڑا جلوس نکالا۔ اس جلوس کا نعرہ تھا: لبيك، يا فلسطين، لَبّیک، یا فلسطین حسن البنا، یا الاخوان المسلمون کو بلاشبہ حکومتی حیثیت حاصل نہ تھی، اس کے باوجود انھوں نے اسرائیل کے خلاف مسلح جہاد چھیڑ دیا۔ اس میں شک نہیں کہ یہ غیر حکومتی جہاد بھی ایک مبتد عانہ فعل تھا۔ چناں چہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح کا معاملہ جموں وکشمیر میں پیش آیا۔ یہاں مختلف ناموں کے ساتھ مجاہدین کی جماعتیں بنیں۔ ان جماعتوں کو باہر کے مسلم ملکوں سے خفیہ امداد دی گئی۔ چناں چہ انھوں نے زبردست جانی اور
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues