جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰
مالی قربانیوں کے ذریعے کشمیر میں مسلح جہاد شروع کر دیا۔ یہ کشمیری مجاہدین، حکومت کا حصہ نہ تھے۔ اس بنا پر انھیں مسلح جہاد کا کوئی شرعی حق نہیں تھا۔ مگر انھوں نے نہایت دھوم کے ساتھ مسلح جہاد شروع کیا۔ اگرچہ خود کش بم باری کی آخری حد تک پہنچنے کے باوجود اپنے مسلح جہاد میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ وہ اپنے مطلوب نشانے تک پہنچنے میں پوری طرح ناکام ہو گئے۔
5- غیر حکومتی گروہوں کے ذریعے مسلح جہاد کا یہ عمل مکمل طور پر غیر شرعی تھا۔ اس کے باوجود وہ کیوں جاری رہا۔ اس کا واحد سبب یہ تھا کہ تمام دنیا کے علما نے یا تو اُس کی کھلی تائید کی، یا خاموش رہ کر اُس کی حوصلہ افزائی کی۔ دوسوسال کی اس پوری مدت میں پوری مسلم دنیا کے علما کا یہی رویہ تھا اور تادم تحریر اُن کا یہی رویہ بدستور قائم ہے۔ اس معاملے میں کچھ علما، خاص طور پر عرب علما، اس حد تک گئے کہ انھوں نے خود کش بم باری کو بھی ایک جائز فعل قرار دیا۔ مثلاً ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے فلسطینیوں کی خود کش بم باری (suicide bombing) کو استشہاد قرار دیا ہے، یعنی طلب شہادت کا عمل (عملية استشهادية، المجتمع، 18 جون 1996، صفحہ 35، 34)۔ مگر یہ سراسرایک غیر اسلامی فتویٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں، جن لوگوں نے خود کش بم باری کو استشہاد قرار دیا، انھوں نے بلاشبہ ایک ایسا فعل کیا جس کا اسلامی شریعت میں کوئی جواز موجود نہیں۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، اس مدت میں چند علما ایسے نکلے جنھوں نے مذکورہ قسم کے مسلح جہاد سے اتفاق نہیں کیا۔ مثلاً سید احمد بریلوی نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے خلاف 1831ء میں پنجاب میں جو مسلح جہاد کیا، اُس کے خلاف خود اُن کے حلقے کے ایک عالم نے اُس سے سخت اختلاف کیا۔ اُن کا نام یہ تھا—مولانا میر محبوب علی دہلوی (وفات: 1864ء)۔ جب سید احمد بریلوی نے ان کی بات نہیں مانی تو وہ اُن سے الگ ہو کر اپنے وطن (دہلی) واپس آگئے۔
اسی طرح دیو بند اور سہارن پور کے علما نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اُس وقت وہاں ایک بڑے عالم مولانا شیخ محمد تھانوی (وفات: 1865) موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے یہ مسلح جہاد جائز نہیں۔ اس پر دیو بند کے علما سے اُن کی گفتگو ہوئی،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues