جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱
لیکن علما اُن کی بات کو ماننے پر تیار نہیں ہوئے۔
اسی طرح الاخوان المسلمون کے مرشد عام حسن الھضیبی (وفات : 2004) ایک مصری عالم تھے۔ انھوں نے الاخوان المسلمون سے اختلاف کیا اور اس پر ایک کتاب بھی لکھی جو عربی میں دُعاة... لا قُضاة‘ کے نام سے قاہرہ سے شائع ہو چکی ہے۔ حسن الھضیبی اگر چہ الاخوان المسلمون کے مرشد عام تھے، لیکن اس کتاب کا کوئی اثر الاخوان المسلمون کی تحریک پر نہیں پڑا۔ بعض علما کی یہ اصلاحی کوشش کیوں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ زیادہ مدلّل انداز میں اپنی بات پیش نہ کر سکے۔ اُن کے ارشادات زیادہ تر اختلاف کی نوعیت کے تھے، وہ معاملے کی مدلّل تردید کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس بنا پر اُن کے خیالات کا بے اثر ہو جانا ایک فطری امر تھا اور عملاً ایسا ہی ہوا۔
6- قرآن میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدّينُ كلّه لله (الأنفال : 39) (یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کا ہو جائے۔ اس آیت میں 'قاتلوهم' سے مراد عوام سے جنگ نہیں، بلکہ سرداران وقت سے جنگ ہے۔ جنگ ہمیشہ اقتدار کے مالکوں سے کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: قاتلوا أئمة الكفر (التوبة: (12)
اس آیت میں 'فتنة' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مفسرین قرآن نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ فتنہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔ مگر اس کا مطلب مجرد شرک یا اعتقادی شرک نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ شرک یا کفر، دوسرے امتحانی پرچوں کی طرح امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ امتحان کے تمام پرچے قیامت تک باقی رہیں گے۔ اُن میں سے کسی امتحانی پرچے کو قیامت سے پہلے منسوخ یا معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح، یا کفر جارح ہے، جیسا کہ عبداللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
شرک جارح کیا چیز ہے، اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں مذہبی تعذیب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues