جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک حوالہ قرآن کی سورہ نمبر 85 میں ملتا ہے۔ اس سورہ میں ارشاد ہوا ہے: ہلاک ہوئے خندق والے جس میں بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جب کہ وہ اُس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے، وہ اُس کو دیکھ رہے تھے۔ اور اُن سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر، جو زبردست ہے، تعریف والا ہے (البروج: 8-4)۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب کو اسٹیٹ کے معاملات (state affairs) میں سے ایک معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن (state religion) کے سوا، کسی اور مذہب کو اختیار کرنا، اسٹیٹ سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔ یہ صورت حال، خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی۔ خدا کے تخلیقی نقشے کا تقاضا ہے کہ دنیا میں مذہبی جبر نہ ہو، بلکہ مذہبی آزادی ہو۔ تا کہ لوگوں کے بارے میں صحیح یا غلط کا حکم لگایا جاسکے۔ اس لیے خدا نے پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سیاسی جارحیت کا خاتمہ کر دیں، تاکہ اسٹیٹ کا معاملہ اور مذہبی عقیدے کا معاملہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔
اس معاملے پر مزید غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس تعلیم کا مطلب انسانی تہذیب میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا تھا۔ ایک ایسا دور جس میں اسٹیٹ کا حاکمانہ تعلق صرف انتظام ملکی سے رہے اور بقیہ تمام معاملات حکومتی اقتدار سے باہر کی چیز بن جائیں۔ یہ گویا کہ مذہبی آزادی کی تکمیل ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں، ڈی سنٹرلائزیشن آف پاور (de-centralization of power) کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی اقتدار کی تحدید (demarcation) انسانی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا معاملہ تھا۔ اس قسم کا انقلاب تاریخ میں اچانک واقع نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ ایک لمبے عمل (process) کے ذریعے ظہور میں آتا ہے۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شرک جارح کو ختم کیا گیا۔ یہ واقعہ عرب میں مشرکانہ اقتدار کے خاتمے اور دوسری طرف بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے خاتمے کے ذریعے پیش آیا۔
اس واقعے کے بعد تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا۔ یہ ڈی سنٹرلائزیشن آف پاور کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues