جہاد اسلامی تاریخ میں
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳
پرائس تھا۔ یہ پرائس مدینہ سے شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ مسلسل جاری رہا۔ اٹھارھویں صدی کا آخر اس پرائس کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ ساری دناور میں یہ نظام قائم ہو گیا کہ حکومتی اقتدار کا تعلق صرف انتظام ملکی (administration) تک محدود ہو گیا۔ اس کے سوا، زندگی کے تمام شعبے سیاسی اقتدار سے آزاد ہو گئے، مثلاً تعلیم، مذہب، صحافت، نظریاتی اشاعت، صنعت اور تجارت، وغیرہ۔
اس انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آ گیا، جس کو انسٹی ٹیوشن کا دور کہا جاتا ہے، یعنی وہ دور جب کہ آزاد ادارہ بنا کر کسی بھی کام کو کیا جا سکتا ہے۔ پولیٹکل پاور کو اب یہ حق نہیں رہا کہ وہ اداروں کے قیام کو روکے۔ موجودہ زمانے میں سیاسی ادارہ صرف ایڈمنسٹریشن تک محدود ہو گیا۔ اس کے سوا تمام دوسرے کام، آزاد اداروں کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں۔
قتال فتنے کی مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا تھا ” اور دین سب اللہ کا ہو جائے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی انتظام کے سوا جو مذہبی معاملات ہیں، براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر، وہ سب سیاسی حاکمیت سے آزاد ہو جائیں۔ انسان کو یہ موقع حاصل ہو جائے کہ وہ مذہب کے معاملے میں آزادانہ طور پر جو چاہے کرے، کسی سیاسی اقتدار کو اُس پر پابندی عائد کرنے کا حق باقی نہ رہے۔ 7- وہ زمانہ جس کو موجودہ زمانہ کہا جاتا ہے، وہ اسی کامل مذہبی آزادی کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں اہلِ اسلام کو مکمل طور پر یہ موقع حاصل تھا کہ وہ سیاسی اقتدار کے محدود دائرے کے باہر اسلام کی تمام سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری کر سکیں۔ اسلامی تنظیم، اسلامی تعلیم، اسلامی دعوت، اسلامی اصلاح، اسلامی اقتصادیات، وغیرہ تمام معاملات میں اُنھیں پورا اختیار حاصل ہو چکا تھا، مگر زمانی تبدیلی سے بے خبری کی بنا پر اہل اسلام جدید مواقع کے استعمال کی منصوبہ بندی نہ کر سکے، بلکہ انتہائی نادانی کے ساتھ سیاست کی چٹان سے ٹکرانے لگے۔
جدید مواقع سے مراد مذہبی آزادی، جدید کمیونیکیشن، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا، ادارتی تنظیم کی جدید سہولتیں، اشاعتِ افکار کے عالمی مواقع، سائنٹفک دلائل کا ظہور، ذہنی کڑپن کا خاتمہ،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues