Al-Risala · March 2008 · page 14

جہاد اسلامی تاریخ میں

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴

اسپرٹ آف انکوائری، انگریزی کی صورت میں عالمی زبان کا وجود میں آنا، اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں کے قیام کے امکانات، وغیرہ۔ ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی صوت میں مسلمان تمام اسلامی مقاصد کو اعلیٰ ترین درجے میں حاصل کر سکتے تھے۔

آغازِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک علماءِ اسلام یہ کرتے رہے کہ حکم رانوں سے ٹکراؤ، یا مفروضہ ظالموں کے خلاف مسلح جہاد سے وہ مکمل طور پر دور رہے۔ انھوں نے اپنی ساری توانائی قرآن اور حدیث اور دوسرے علومِ اسلامی کی خدمت میں لگا دی۔ وہ دعوتِ دین اور تعلیمِ اسلام جیسے کاموں میں مصروف رہے۔ انھوں نے مسجد اور مدرسہ جیسے تعمیری اور ربانی ادارے قائم کر کے غیر سیاسی انداز میں اسلام کی خدمات انجام دیں۔ اسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام ایک اعلیٰ تہذیب اور ایک شان دار تاریخ کے روپ میں دنیا میں قائم ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں اسلام کے تمام شان دار کارنامے علماءِ دین کی اسی تعمیری پالیسی کا نتیجہ تھے۔

موجودہ زمانے میں علماءِ اسلام کو یہی موقع دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل ہوا۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ اہل اقتدار کے خلاف مسلح جہاد کے ممنوعہ میدان میں نہ داخل ہوں، بلکہ وہ اسلام کو دوبارہ علمی اور فکری اور تہذیبی اعتبار سے آج کی دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ قدیم سیاسی ایمپائر سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر اسلام کا غیر سیاسی ایمپائر بنا سکتے تھے، مگر علماءِ اسلام کو ز مانی بصیرت سے محرومی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ انھوں نے اپنے خیال کے مطابق، قربانی کی یادگاریں تو ضرور قائم کیں، لیکن وہ اسلام کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش نہ کر سکے کہ دینا، اسلام کو اپنے لیے زندگی کا سر چشمہ سمجھے اور حال کا انسان بھی اُس کو اُسی طرح قبول کرے جس طرح ماضی کے انسان نے اس کو آگے بڑھ کر قبول کیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page