Al-Risala · March 2008 · page 15

عظیم ترین شہادت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۵

عظیم ترین شہادت

شہادت کے لفظی معنیٰ گواہی (witness) کے ہیں۔ شہادت، قرآن کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ شہادت، واحد دینی عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا کام (الصف: 14) بتایا ہے۔

اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو ان کی موت سے پہلے بتا دیا جائے کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔ قبل از موت زندگی کیا ہے اور بعد از موت زندگی کیا ہے۔ اسی لیے اس کام کو قرآن میں انذار و تبشیر (الأحزاب: 45) کا کام قرار دیا گیا ہے۔

یہی وہ خاص کام ہے جس کے لیے خدا نے ہر زمانے میں اپنے پیغمبر بھیجے اور اب ختم نبوت کے بعد یہی کام آپ کے امتیوں کو انجام دینا ہے۔ جو شخص انذار و تبشیر کے اس کام کو انجام دے وہ داعی ہے، اور جس کے اوپر اس کام کو انجام دیا جائے وہ مدعو ہے۔ داعی اور مدعو کے اس تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشہود (البروج: 3) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

دعوت یا شہادت کا یہ عمل انسان کی تخلیق کے آغاز ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس مقصد کے لیے ہر مقام پر اور ہر زمانے میں پیغمبر آتے رہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اب کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں، لیکن پیغمبر کا دعوتی کام پیغمبر کے متبعین کے ذریعے بدستور باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ تاہم تاریخی اعتبار سے اس دعوتی کام کے دو دور ہیں۔ قبل از سائنس دور اور بعد از سائنس دور۔ جدید سائنس کے ظہور سے پہلے دنیا میں توہمات (superstitions) کا غلبہ تھا۔ جدید سائنس نے پہلی بار اس توہماتی دور کو ختم کیا۔ اس کے بعد دنیا میں عقلی طرزِ فکر کا دور آیا۔ اس اعتبار سے دعوتی عمل کے بھی مختلف ادوار ہیں۔ ایک، قدیم روایتی دور میں کیا جانے والا دعوتی کام اور دوسرا، جدید سائنسی دور میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page