عظیم ترین شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶
کیا جانے والا دعوتی کام۔ جدید دور سائنس میں کیا جانے والا یہی دعوتی کام ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت قرار دیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال) دعوت یا شہادت کے اس عظیم ترین کام کا ذکر خود قرآن میں بھی موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 42 میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے دلائل ظاہر ہوں گے جن کے ذریعے حق کی تبیین اعلی ممکن ہو جائے گی ۔ اس قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، کائنات میں بھی اور خود انسانوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ بلاشبہ حق ہے (حم السجدة : 53)۔
اول الذکر حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں جب کہ دجالی فتنہ ظاہر ہوگا ، ایک شخص اس کے مقابلے میں 'حجیج بن کر اٹھے گا۔ وہ دجالی فتنے کو حجت اور دلیل (rational argument) کے ذریعے ختم کرے گا اور امر حق کو اعلیٰ ترین سطح پر مبرهن کر دے گا ، اور یہ دعوتی کام اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر امر حق کی اعلیٰ ترین شہادت کے ہم معنی ہوگا (هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين) ۔
بظاہر اس حدیث رسول میں ایک فرد (حجیج) کا ذکر ہے، لیکن اس دنیا میں کوئی بھی بڑا کام ایک فرد کا ذاتی کارنامہ نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ زمانے میں کچھ خصوصی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مواقع ہمیشہ لمبے تاریخی عمل کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں۔ اس معاملے میں فرد کا حصہ یہ ہے کہ وہ ان مواقع کو دریافت کرتا ہے اور منصوبہ بند انداز میں اُن کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو انقلاب کہا جاتا ہے۔ کوئی انقلاب کبھی بھی شخصی چمتکار کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجود مواقع کو دانش مندانہ انداز میں استعمال کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ دینی انقلاب کا بھی ہے اور یہی معاملہ سیکولر انقلاب کا بھی۔
اس معاملے کی ایک سیکولر مثال انڈیا کے قومی لیڈر مہاتما گاندھی کی ہے۔ 1947 میں انڈیا کو برطانیہ کے مقابلے میں جو سیاسی آزادی ملی، عام طور پر اُس کو مہاتما گاندھی کا کارنامہ بتایا جاتا ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues