عظیم ترین شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
معاملے میں ایک مقبول نظم میں ایک شاعر گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:
سابر متی کے سنت، تو نے کر دیا کمال!
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی آزادی، مہاتما گاندھی کا شخصی چمتکار نہ تھا، وہ دور جدید کے مواقع کو استعمال کرنے کا نتیجہ تھا۔ شہنشاہ اور نگ زیب (وفات: 1707) کے زمانے میں مرہٹہ لیڈر اور سکھ لیڈر اسی طرح کے سیاسی نشانے کو لے کر اٹھے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس، مہاتما گاندھی برطانوی حکمرانوں کے مقابلے میں سیاسی مقصد کو لے کر اٹھے اور کامیاب ہو گئے۔ اس فرق کا سبب زمانی فرق ہے۔ مہاتما گاندھی کو بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ملا، جب کہ دنیا میں ڈیموکریسی، سیکولرازم، قومی خود مختاری، صحافتی آزادی، حقوق انسانی (human rights) کا زمانہ آ چکا تھا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں مہاتما گاندھی کو وہ زمانی حمایت حاصل ہو چکی تھی جو اور نگ زیب کے زمانے میں اٹھنے والے لیڈروں کو حاصل نہ تھی۔ مہاتما گاندھی نے ان جدید مواقع کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ اپنے سیاسی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
یہی معاملہ دینی انقلاب کا بھی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم انقلاب بر پا کیا۔ تمام مورخین اس کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی شخصی چمتکار کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ زمانے کے موجود مواقع کو استعمال کرنے کا معاملہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے موجود مواقع کو دانش مندی کے ساتھ استعمال کیا، اس کے نتیجے میں وہ انقلاب ظاہر ہوا جس کو ہم اسلامی انقلاب کہتے ہیں۔
یہ مواقع ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش (570ء) سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرات ابراہیم مکہ آئے، جو اس وقت صرف ایک بے آب و گیاہ صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ حدیث میں آیا ہے (صحیح البخاری، کتاب الأنبیاء)۔
اس طرح متمدن شہروں سے دور صحرا کے اس فطری ماحول میں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues