عظیم ترین شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
یسل، انسانی تہذیب کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ صحرا کے اس فطری ماحول میں تربیت پا کر ایک نئی قوم تیار ہوئی۔ ایک مستشرق نے بجا طور پر اس کو ہیروز کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ یہی انوکھی قوم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا میدان بنی۔ پیغمبر کی تعلیم و تربیت کے ذریعے اِنھیں کے اندر سے صحابہ کا وہ استثنائی گروہ نکلا، جس کو قرآن میں خیر امت (آل عمران: 110) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ساری دنیا پر مشرکانہ تہذیب کا غلبہ تھا۔ اس ماحول میں پیدا ہونے والے ہر عورت اور مرد کا کیس کنڈیشننگ کا کیس بن چکا تھا۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر وہ لوگ پیغمبر کے پیغام پر کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے قابل نہ رہے۔ ڈھائی ہزار سال کی صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے نتیجے میں ایک نئی قوم پیدا ہوئی، جو آزادانہ طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ قدیم اہل عرب کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کی دعوت کو سمجھا اور اس کو دل و جان کے ساتھ قبول کر لیا۔ اس طرح وہ انقلابی ٹیم بنی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہی تاریخ موجودہ زمانے میں ایک نئی صورت میں دہرائی گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں جو سائنسی انقلاب آیا، اُس کو مغربی مصنف جان فریڈرک ویسٹ (John Fredrick West) نے اپنی کتاب میں عظیم ذہنی انقلاب (great intellectual revolution) کا ٹائٹل دیا ہے۔ زیر بحث موضوع کے اعتبار سے اس انقلاب کو ڈی کنڈیشننگ کا ایک عظیم واقعہ (great event of de-conditioning) کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔
جدید سائنسی انقلاب کا ایک پہلو، اس کا ٹیکنکل پہلو ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو، اس کا فکری پہلو ہے۔ فکری پہلو کے اعتبار سے سائنس نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ اپنی گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے عالمی ڈی کنڈیشننگ (universal de-conditioning) کے ہم معنی تھا۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مائتھا لوجی اور توہم پرستی (superstitions) کے زیر اثر سوچنے کا دور عملی طور پر ختم ہو گیا۔ اب لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر روح تجسس (spirit of inquiry) پیدا ہوئی۔ لوگ قومی اور سماجی تعصبات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں سوچنے لگے، چیزوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues