عظیم ترین شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
فار گرانٹید (for granted) لینے کا دور ختم ہو گیا اور ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر اُن کو ماننے کا زمانہ آ گیا ۔ قدیم زمانے میں مسلّمات پر مبنی سوچ کا طریقہ رائج تھا، اب یہ ذہن بن گیا کہ حقیقی وجود صرف اُس چیز کا ہے جو سائنسی جانچ (scientific scrutiny) پر پوری اترے۔
تحقیق کا یہ ذہن ابتدا ء مخصوص سائنسی موضوعات کے ذیل میں پیدا ہوا، مگر دھیرے دھیرے وہ مذہب کے دائرے تک پہنچ گیا۔ چناں چہ ایک نیا علمی موضوع پیدا ہوا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی تنقید کے نتیجے میں تمام مذاہب کا علمی اور تاریخی استناد مشتبہ ہو گیا۔ اس عموم میں صرف ایک استثنا تھا، اور وہ ہے مذہب اسلام کا استثنا۔ جدید سائنسی تحقیقات نے ایک طرف، دوسرے مذاہب کے بارے میں بتایا کہ وہ علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ مذہب کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، انھیں سائنسی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام استثنائی طور پر ایک ایسا مذہب ہے جس کو علمی اور تاریخی اعتبار سے کامل استناد (credibility) کا درجہ حاصل ہے۔
اِسی کے ساتھ جدید سائنس نے اور بہت سے اُن موافق دلائل کو واضح کیا جس کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے۔ اِس طرح دورِ جدید، دینِ خداوندی کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس دور میں ایک طرف یہ ہوا کہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کی ڈی کنڈیشننگ عمل میں آئی، یعنی ایک ایسا گروہ وجود میں آیا جو ہر قسم کے پیشگی تعصبات (pre-occupations) سے آزاد ہو کر خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر رائے قائم کر سکتا تھا۔
فیصلے کی یہ بنیاد جو موجودہ زمانے میں تاریخ کے طویل عمل کے بعد پیدا ہوئی، وہ عین دین خداوندی کے حق میں تھی ، مگر اس امکان کو حقیقی طور پر استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما اور مفکرین مواقع بلائنڈ (opportunity blind) ہو گئے ، وہ جدید مواقع کو دیکھنے سے مکمل طور پر محروم رہے۔ انھوں نے انتہائی نادانی کے ساتھ جدید حالات کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور اِس کے خلاف ایک ایسی غیر دانش مندانہ لڑائی میں مصروف ہو گئے جس کا انجام کامل تباہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues