Al-Risala · March 2008 · page 20

عظیم ترین شہادت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

موجودہ زمانہ میں دنیا بھر کے مسلم رہ نما، مواقع بلائنڈ کیوں ہوگئے، اس کا جواب ہم کو ایک حدیث رسول سے ملتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُبّک الشئ یعمی و يصم (أبوداؤد، كتاب الأدب) یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ اس قول رسول میں ایک اور مفہوم بھی لازمی طور پر شامل ہے، وہ یہ کہ: بغضک الشئ يعمی و يصم، یعنی کسی چیز کے ساتھ دشمنی تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔

یہی موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں کے ساتھ ہوا۔ موجودہ زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کے ذریعے آیا تھا۔ بعض سیاسی اسباب کے تحت، موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں نے مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کو اپنا دشمن سمجھ لیا، وہ ان سے نفرت کرنے لگے۔ اس منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ مغرب کی طرف سے آئی ہوئی ہر چیز کو سازش اور دشمنی کی نظر سے دیکھنے لگے۔ مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کے ذریعے اسلامی دعوت کے عظیم مواقع کھلے تھے، لیکن یہ رہ نما اپنے منفی ذہن کی بنا پر ان جدید مواقع کو دیکھنے سے قاصر رہے۔

میرے علم کے مطابق ، اس معاملے میں کسی بھی مسلم رہ نما کا کوئی استثنا نہیں۔ افغانستان کے سید جمال الدین افغانی، عرب ورلڈ کے سید قطب، ایران کے آیت اللہ خمینی، انڈیا کے ڈاکٹر محمد اقبال سب یکساں طور پر اس منفی نفسیات کا شکار بن گئے، حتیٰ کہ مولانا حمید الدین فراہی جیسا غیر سیاسی آدمی بھی اپنے آپ کو اس منفی نفسیات سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم اس معاملے پر نظر ثانی کریں اور شخصیت پرستی کے دائرے سے باہر آکر جدید مواقع کو سمجھیں۔ اس کے بغیر نہ جدید مواقع کی معرفت حاصل ہوگی اور نہ ان کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے گا۔

جدید دور نے جو عظیم مواقع اسلامی دعوت کے حق میں پیدا کیے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ جدید دور میں پہلی بار حق کے داعیوں کو ایک عظیم استدلالی امکان حاصل ہوا، جس کو مشترک استدلالی بنیاد (mutually accepted ground) کہا جا سکتا ہے۔

قدیم زمانے میں جن داعیان حق نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، اُن کے پاس اپنے پیغام کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page