عظیم ترین شہادت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱
صداقت کو ثابت کرنے کے لیے صرف روایتی دلیل ہوتی تھی۔ اُس زمانے کا ذہنی فریم ورک روایتی عقائد پر قائم تھا، اِس لیے اِس زمانے کے داعیوں نے اِس فریم ورک کے مطابق کلام کیا اور روایتی دلائل کی زبان میں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ اِس میں استثنا صرف پیغمبروں کا ہے، جنھوں نے خدا کی خصوصی نصرت کے تحت کچھ معجزات پیش کیے، جن کو اُن کے معاصرین نے جادو کا کرشمہ کہا اور اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ ایسی بنیاد پر اپنی بات کو ثابت کیا جائے جس کا دلیل ہونا، فریق ثانی کے نزدیک بھی تسلیم شدہ ہو۔ اِس قسم کی مشترک استدلالی بنیاد پہلے زمانے میں ممکن نہ تھی، مگر آج وہ پوری طرح ایک ممکن چیز بن گئی ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما اپنی منفی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کو صرف مسائل (problems) کی نظر سے دیکھتے رہے، وہ موجودہ زمانے کو مواقع (opportunities) کی نظر سے نہ دیکھ سکے ۔ اِس بنا پر وہ اِن مواقع کو استعمال کرنے سے بھی قاصر رہے۔
مثلاً قدیم زمانے میں تمام فلاسفہ اور سیکولر مفکرین یہ سمجھتے تھے کہ دینی حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے اول درجے کا استدلال (primary rationalism) موجود نہیں، دینی حقیقتوں کے لیے صرف ثانوی درجے کا استدلال (secondary rationalism) ممکن ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے کے علماءِ الہیات، خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ دلیل استعمال کرتے تھے، جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کی چیزوں میں ڈیزائن ہے تو ضرور اُن کا ایک ڈیزائنر ہے:
Where there is a de sign, there is also a designer, and when designer is proved, existence of God is also proved. اِس استدلال کو قدیم سیکولر مفکرین یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ ایک استنباطی استدلال (inferential argument) ہے، نہ کہ براہ راست استدلال (direct argument)۔ لیکن موجودہ زمانے کی سائنسی تحقیقات نے اس اعتراض کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ اب یہ ثابت ہو گیا کہ استنباطی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues