Al-Risala · January 2008 · page 11

تواضع ایک عظیم عبادت

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱

پھر میں نے سوچا کہ کہ کیا بلڈنگ کا یہ مجرمانہ استعمال اسی طرح ہمیشہ جاری رہے گا، یا بلڈنگ کا معمار ظاہر ہو کر ان ’’ بندروں ‘‘ کو اُن کی اس مجرمانہ روش کی سزا دے گا، اور پھر وہ اس خوب صورت بلڈنگ کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دے گا جن کے لیے وہ بنائی گئی تھی۔

اِس مثال پر غور کیجیے۔ بنانے والے نے یہ بلڈنگ کسی خاص مقصد کے تحت بنائی تھی۔ اِس بلڈنگ کا صحیح مصرف یہ تھا کہ اُس کو اس کے مقصد تعمیر کے مطابق استعمال کیا جائے، لیکن اس کے بجائے یہ ہوا کہ اُس پر وحشی بندروں نے قبضہ کر لیا اور اس عمارت کو وہ اپنی بے معنی اچھل کود کے لیے استعمال کرنے لگے۔

یہ مثال زیادہ بڑے پیمانے پر آج کی پوری انسانی دنیا پر صادق آرہی ہے۔ موجودہ سیارہ زمین گویا کہ زیادہ وسیع پیمانے پر مذکورہ بلڈنگ کے مانند ہوگئی ہے۔ تمام دنیا میں یہ حال ہے کہ عورتیں اور مرد انتہائی غیر ذمے دارانہ انداز میں زمین کے اوپر پھیل گئے ہیں۔ وہ زمین کو صرف اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشیں کس طرح پوری کریں۔ وہ اس حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے کہ یہ زمین کس نے بنائی ہے اور کس مقصد کے لیے بنائی ہے۔

ایسا کیوں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جب سائنس نے لائف سپورٹ سسٹم کو زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کیا تو عین اُسی وقت ایک اور واقعہ پیش آیا، وہ یہ کہ مختلف اسباب سے دنیا میں عالمی سطح پر ایک نیا کلچر وجود میں آگیا، جس کو انجوائے منٹ کلچر (enjoyment culture) کہا جاتا ہے۔ اِس انجوائے منٹ کلچر کے ماحول میں لوگوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ یہاں جو کچھ ہے، وہ سب اس لیے ہے تاکہ انسان اُس سے انجوائے کرسکے۔ اس طرح یہ ہوا کہ ماحول کے اثر سے، نہ کہ کسی عقلی سبب سے، لائف سپورٹ سسٹم نے عملی طور پر انجوائے سپورٹ سسٹم کی حیثیت اختیار کرلی۔ اور پھر ایسا ہوا کہ انسانی سماج، حیوانی سماج بن کر رہ گیا۔

انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ حیوان صرف اپنے ذاتی انٹرسٹ کو جانتا ہے۔ اور انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے ساتھ اپنی ذمے داری کو بھی جانتا ہے اور

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page