sight, touch, taste, smell and hearing
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
اس کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ مگر آج کی دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق مٹ گیا ہے۔ آج کا انسانی کلچر بھی وہی ہے جو حیوانی کلچر ہے۔ ظاہری فرق کے سوا، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واضح طور پر فطرت کے راستے سے ہٹنے کے ہم معنی ہے۔ اور فطرت کے راستے سے ہٹنا ہمیشہ دُگنا محرومی کا سبب بنتا ہے— قبل از موت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی اور بعد از موت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی۔ انسان اس دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے، فطرت کے راستے سے انحراف تو کر سکتا ہے، لیکن وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ اس انحراف کے مہلک انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ یہی وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے آج کا انسان دوچار ہے۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں محروم ہو جانا کیا ہے، اس کو ہر آدمی خود اپنے ذاتی تجربے سے جان سکتا ہے۔ ہر انسان کے سامنے اپنے لیے ایک خوش نما منزل ہوتی ہے، جہاں وہ پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے سارے وقت اور ساری توانائی کو اس مقصد کے حصول میں لگا دیتا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آخر میں ہر ایک کے حصے میں صرف مایوسی آرہی ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جب اپنی عمر پوری کر کے مرتا ہے تو ہر شخص مایوسی (despair) میں مرتا ہے، اس میں کسی بھی مرد یا عورت کا کوئی استثنا نہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی جس منزل کو پانا چاہتا ہے، اس کے اسباب اس دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ چناں چہ یہ ہوتا ہے کہ ساری کوششیں صرف کرنے کے بعد ہر آدمی کا خاتمہ صرف ایک انجام پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ آدمی اس دنیا میں اپنی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکا۔ وہ اپنے مقصود کو پانے میں ناکام رہا۔
انسان کے جسم میں خصوصی طور پر پانچ ممتاز صلاحیتیں (five faculties) پائی جاتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو حواس خمسہ (five senses) کہا جاتا ہے۔ وہ پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں— دیکھنا، چھونا، چکنا، سونگھنا اور سننا:
sight, touch, taste, smell and hearing
یہ پانچ حواس، دراصل پانچ مقاماتِ لذت ہیں۔ ان میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues