انسانی تاریخ کے دو دور
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۱
انسانی تاریخ کے دو دور
خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ پھر اس نے انسان کی تاریخ کو دو دور میں بانٹ دیا۔ پہلا مختصر دور پیدائش سے لے کر موت تک، اور دوسرا طویل تر دور موت کے بعد، جس میں انسان ابدی طور پر رہے گا۔ ان میں سے پہلا امتحان (test) کا دور ہے۔ اور دوسرا دور پہلے دور کے ریکارڈ کے مطابق، ابدی انجام پانے کا دور۔
تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت ہمیشہ اس حقیقت سے بے خبر رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ غالباً وہ چیز ہے جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو فورا ہی اس کو ماں اور باپ اور رشتے دار مل جاتے ہیں۔ وہ کما کر پیسہ حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے لیے ایک گھر بناتا ہے اور اپنی کوششوں کے ذریعے دھیرے دھیرے زندگی کے تمام سامان حاصل کر لیتا ہے۔ بظاہر وہ دیکھتا ہے کہ ہر چیز جو اس کو مل رہی ہے، وہ خود اس کی اپنی کوشش کے ذریعے مل رہی ہے۔
اس طرح شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کے اندر وہ ذہن بنتا ہے جس کو ملکیت (ownership) کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ اس دنیا میں اُس کو جو چیزیں ملی ہوئی ہیں، وہ سب اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس کو اپنی ذاتی کوشش کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں، یہ تمام چیزیں سامانِ ملکیت ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر وہ سمجھ نہیں پاتا کہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے چیزوں کی اصل نوعیت کیا ہے۔ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے چیزیں سامانِ امتحان ہیں، مگر انسان کنڈیشننگ کی بنا پر اُن کو سامانِ ملکیت سمجھ لیتا ہے۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کی پوری زندگی زیر امتحان زندگی ہے۔ یہاں انسان کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ اس کے لیے پرچہ امتحان (test paper) کی حیثیت رکھتا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues