Al-Risala · March 2008 · page 32

انسانی تاریخ کے دو دور

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲

ہے۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں ہر لمحہ اس احساس کے ساتھ رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے، بلکہ پابند ہے۔ وہ چیزوں کا مالک نہیں ہے، بلکہ تمام چیزیں وقتی طور پر اس کے تصرف میں دی گئی ہیں تا کہ ان چیزوں میں جانچ کر دیکھا جائے کہ وہ صحیح عمل کرنے والا ہے، یا غلط عمل کرنے والا۔

اس دنیا میں آدمی ایک گھر بناتا ہے اور اُس کو وہ "اپنا گھر" کہتا ہے۔ وہ اپنے نام پر اس کا نام رکھتا ہے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر گھر ٹسٹ ہاؤس ہے۔ اس دنیا میں ہر کاٹسٹ کا رہا ہے۔ اس دنیا میں ہر پراپرٹی ٹسٹ پراپرٹی ہے۔ اس دنیا میں ہر اولاد ٹسٹ اولاد ہے۔ اس دنیا کی تمام چیزیں ٹسٹ کا سامان ہیں۔

مگر آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا ہوا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک اس کی موت آتی ہے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو میں اپنی چیزیں سمجھتا تھا، وہ تو خدا کی طرف سے امتحان کے لیے وقتی طور پر ملی ہوئی تھیں۔ پچھلا دور حیات ختم ہوتے ہی وہ سب کی سب مجھ سے چھین لی گئیں۔ اب مجھے ایک ایسی دنیا میں رہنا ہے جہاں مجھے مکمل طور پر محرومی کی حالت میں زندگی گزارنا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو اُن کے حسن عمل کے نتیجے میں دوبارہ تمام چیزیں بطور انعام دے دی جائیں گی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر البلاد الى الله أسواقها (صحیح مسلم، کتاب المساجد) یعنی تمام جگہوں میں سب سے بُری جگہ بازار ہے۔ بازار کیا ہے۔ بازار، وہ مقام ہے جہاں سے آدمی چیزوں کو خرید کر حاصل کرتا ہے۔ بازار خرید و فروخت کی علامت ہے۔ اس طرح بازار آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ چیزیں صرف خرید کر ملتی ہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ چیز کی قیمت ادا کرو اور تم کو وہ چیز مل جائے گی۔

موجودہ دنیا میں ملکیت (ownership) کا قانون رائج ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز ملکیت کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page