Al-Risala · March 2008 · page 33

انسانی تاریخ کے دو دور

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳

ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ مکان، گاڑی، ساز وسامان، استعمال کی چیزیں، کنزیومر گڈس، تمام چیزیں آدمی کو اس طرح ملتی ہیں کہ وہ ان کی قیمت ادا کرتا ہے اور پھر وہ ان کا مالک بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ دنیا ایک فریب کی جگہ (deceptive world)بن گئی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دنیا کی ہر چیز امتحان کا پرچہ (test paper)ہے۔ وہ خدا کی طرف سے انسان کو اس کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن خرید و فروخت کے موجودہ نظام کی بنا پر آدمی غلط طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ چیزیں اس کو قیمت ادا کر کے حاصل ہو رہی ہیں۔

اس صورتِ حال کی بنا پر ہر آدمی ایک فریب میں جی رہا ہے۔ وہ امتحان کے ذریعے ملی ہوئی چیزوں کے بارے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس کو بطور ملکیت حاصل ہوئی ہیں۔ یہ صورتِ حال بلاشبہ سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی احساس ملکیت کے تحت زندگی گزارتا ہے، حالاں کہ اس کو احساسِ ذمہ داری کے تحت زندگی گزارنا چاہیے۔ موت اس صورتِ حال کا خاتمہ ہے۔ موت کے وقت اچانک یہ تمام چیزیں انسان سے چھن جاتی ہیں۔ اُس وقت اچانک انسان پر یہ کھلتا ہے کہ جن چیزوں کے درمیان وہ زندگی گزار رہا تھا، وہ چیزیں صرف امتحان کی مدت تک کے لیے تھیں، موت نے اس مدت کا خاتمہ کر دیا۔ موت سے پہلے آدمی اپنے کو ” سب کچھ والا‘‘ سمجھ رہا تھا، مگر موت کے بعد اچانک وہ ” بے کچھ والا‘‘ بن جاتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو موت سے پہلے، خود سے فریب کے اس پردے کو پھاڑ دے، ورنہ موت اس پردے کو پھاڑے گی، لیکن موت کی طرف سے پردے کا پھاڑا جانا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ ثانیہ مرزا (21 سال) ٹینس کی مشہور کھلاڑی ہیں۔ ان کا وطن حیدر آباد ہے۔ ان کی برتھ ڈے پر ان کی ماں نسیمہ نے حیدر آباد کے ایک لگژری ہوٹل میں شان دار پارٹی دی۔ اس کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (16 نومبر 2007) میں اس عنوان سے چھپی ہے : Surprise party brings in Sania's 21st birthday. رپورٹ کے مطابق ، ثانیہ مرزا کی ماں نسیمہ نے اپنی بیٹی کے بارے میں کہا کہ — میں اپنی بیٹی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page