Al-Risala · March 2008 · page 35

فرائض اور نوافل

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵

فرائض اور نوافل

اسلامی تعلیم کے مطابق، ہر دینی عمل عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی عبادات میں کچھ عبادتیں فرض ہیں، اور کچھ عبادتیں نفل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً روزانہ پانچ وقت کی نماز اسلام میں فرض ہے۔ اسی کے ساتھ ایک عبادت وہ ہے جس کو تہجد کہا جاتا ہے۔ تہجد ایک نفل عبادت ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فتهجد به نافلة لك (الإسراء: 79)۔ اس طرح اشراق اور چاشت کی نمازیں اور دوسری غیر مفروض نمازیں نفل کا درجہ رکھتی ہیں۔

نفل یا ’نافلہ‘ کے معنی زائد (زائدۃ علی الفریضۃ) کے ہیں۔ نفل عبادت کا مطلب ہے فرض کے علاوہ مزید عبادت (additonal prayers)۔ نفل عبادت کے معاملے میں ایک مشہور روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ یہ حدیث قدسی ہے۔ اس کے ایک حصے کا ترجمہ یہ ہے: ”بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کا قلب بن جاتا ہوں جس سے وہ باتوں کو سمجھتا ہے (وقلبه الذي يعقل به)، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے‘‘ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، جلد 11، صفحه 348)۔

نفلی عمل سے مراد زائد عمل ہے۔ زائد عمل کا تعلق صرف نفلی نمازوں سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق ہر اُس اسلامی عمل سے ہے جو فرائض سے زیادہ کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس زائد اسلامی عمل میں ذکر اور تلاوت اور روزہ اور حج اور صدقات جیسے اعمال سے لے کر وہ اعمال بھی شامل ہیں جن کو توسّم اور تفکر اور تدبّر، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ تمام نفلی اعمال تعلق باللہ میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔ نفل کے لفظ کو روایتی مفہوم میں لینے کے بجائے اس کے لغوی معنی میں لینا چاہیے۔ اس طرح، نفل کے لفظ میں وہ تمام

‹ Previous page Next page › Contents of March 2008 All issues

Printed page