Al-Risala · April 2008 · page 9

ہدیہ: صرف 25 روپے

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۹

مدینہ کا مذکورہ واقعہ گویا کہ اسلام کی تاریخ میں پہلا مناظرہ (debate) تھا۔ اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مناظرے کا طریقہ اسلامی طریقہ نہیں، مناظرہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ مناظرہ گویا کہ اسٹیج پر کیا ہوا لفظی دنگل ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ لفظی دنگل کا کوئی فائدہ کسی کو نہ دنیا میں ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔ اس قسم کا طریقہ کسی شخص کو عوامی مقبولیت دے سکتا ہے، لیکن اسلام کو یا اسلامی دعوت کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔

جدال (discussion) کا مقصد اسلامی تعلیم کے مطابق یہ ہے کہ فریق ثانی کو مطمئن (convince) کیا جائے۔ اسلام کے مطابق ، جدال کا مقصد یہ نہیں ہے کہ فریق ثانی کو شکست دے دی جائے اور پھر تالیاں بجا کر بطور خود یہ فرضی خوشی حاصل کی جائے کہ ہم نے دوسرے کو ہرا کر اس کے اوپر جیت حاصل کرلی۔

اسلامی جدال یا دعوتی کلام کا اصل محرک فریق ثانی کے لیے خیر خواہی (well-wishing) ہے، یعنی فریق ثانی کو مطمئن کر کے اُس کو اس قابل بنانا کہ وہ خدا کی رحمت کے سائے میں آجائے۔ دعوتی کلام فریق ثانی کے لیے دردمندی کے جذبے کے تحت نکلتا ہے، اور مناظرانہ کلام فریق ثانی کو کسی نہ کسی طرح ہرانے کے جذبے سے۔

ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

ہدیہ: صرف 25 روپے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page