قومی فخر نہیں
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰
قومی فخر نہیں
دور اول میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے، اُن کے لیے اسلام ایک ذاتی دریافت (discovery) تھا۔ وہ خوفِ خدا اور فکرِ آخرت میں جینے والے لوگ تھے۔ تقریباً سوسال کے بعد مسلمانوں کی یہ پہلی نسل ختم ہوگئی۔ اس کے بعد نسلی مسلمانوں کا دور آیا۔ اس دور کے لوگوں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، اُس میں اہلِ اسلام کو سیاسی دبدبہ حاصل ہو چکا تھا۔ پہلے دور میں اگر اسلام دریافتِ خداوندی کے ہم معنی تھا تو دوسرے دور میں اسلام ایک پولٹکل ایمپائر کے ہم معنی بن چکا تھا۔ یہ دوسرا دور قریب ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس ہزار سال کے اندر مسلم فکر کا جو ارتقا ہوا، وہ خلافت کے نام پر سیاسی عظمت (political glory) پر مبنی تھا۔ اب مسلمانوں کے تمام ادارے، مسلم نسلوں کو فخر اور عظمت کا سبق دینے لگے۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے۔ بعد کی مسلم نسلوں میں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ ذہن بن گیا کہ ہم ہر اعتبار سے دوسری قوموں سے افضل ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
مگر اٹھارھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ قانونِ فطرت کے تحت، اب مسلم ایمپائر ٹوٹنے لگا۔ مسلمان زندگی کے ہر میدان میں دوسروں سے پیچھے جانے لگے۔ اب مغربی قوموں نے سیاسی اور تہذیبی برتری کا درجہ حاصل کر لیا۔ اچانک مسلمانوں کے ساتھ یہ فکری حادثہ پیش آیا کہ جس دنیا میں وہ دوسروں کے مقابلے میں برتری کے احساس میں جی رہے تھے، وہاں وہ مجبور ہو گئے کہ دوسروں کے مقابلے میں کم تری کے احساس میں زندگی گزاریں۔
بیسویں صدی عیسوی کے نصفِ اوّل میں یہ صورتِ حال پوری طرح واضح ہوگئی۔ اُس وقت مسلم دنیا میں بڑی تعداد میں مصلحین (reformers) پیدا ہوئے، مگر اس نئے مرحلے میں ہمارے رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی ہوئی کہ وہ ردِ عمل کی نفسیات کے ساتھ اُبھرے۔ میرے علم کے مطابق، اس دور کا کوئی ایک بھی مسلم رہنما ایسا نہیں ہے جو ردِ عمل کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues