Al-Risala · April 2008 · page 11

قومی فخر نہیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱

معاملے کو سمجھے اور خالص مثبت انداز میں مسلمانوں کو فکری رہنمائی دے۔

حقیقت یہ ہے کہ تبدیلیٔ اقتدار کا یہ معاملہ، فطرت کے ایک قانون کے تحت ہوا۔ اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تلک الأيام نداولها بين الناس (آل عمران: 140)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں غلبہ واقتدار بھی، دوسری دنیوی چیزوں کی طرح، امتحان کا ایک پرچہ (test paper) ہے۔ اقتدار کے اوپر کسی ایک قوم کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہوسکتی، وہ کبھی ایک قوم کے پاس رہے گا اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ فطرت کا یہی قانون تھا جس کا نفاذ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اوپر ہوا۔

ایسے وقت میں مسلم رہنماؤں کو صرف ایک کام کرنا تھا، وہ یہ کہ وہ مسلمانوں کے اندر خود احتسابی (introspection) کا مزاج پیدا کریں۔ وہ مسلمانوں کو اصلاح اور تعمیر اور استحکام کے داخلی کاموں میں لگائیں۔ وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھائیں۔ وہ مسلمانوں کو جدید سائنس اور جدید صنعت اور تجارت کے میدان میں ترقی کرنے کا سبق دیں۔ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ سیاسی اقتدار کے باہر سیکڑوں قیمتی مواقع (opportunities) ہیں جو اُن کے لیے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ سیاسی ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر پرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ ماضی کو بھلا کر مستقبل کی نئی تعمیر کو اپنا نشانہ بنائیں۔

اس دور کے مسلم رہنماؤں کے لیے ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کو تعمیری رہنمائی دیں، یعنی پرامن طور پر داخلی تعمیر و استحکام کا راستہ بتانا۔ مگر ہر ایک نے مسئلے کو صرف ایک خارجی مسئلہ (external problem) سمجھا۔ ہر ایک نے مسلمانوں سے کہا کہ دوسرے لوگ ظالم اور غاصب ہیں تم اُن سے لڑ کر اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کرو، یعنی انھوں نے تعمیری رہنمائی کے بجائے، عسکری رہنمائی دی۔ اس معاملے میں عرب لوگوں کو اپنے موجودہ مزاج کے تحت صرف ایک ماڈل نظر آیا، اور وہ صلاح الدین ایوبی (وفات: 1193) کا ماڈل تھا۔ عرب ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے عرب شاعر الزرکلی نے کہا: هاتِ صلاحَ الدينِ، ثانيةً فينا جدّدی حطينَ، أوشبہ حطّینا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page