قومی فخر نہیں
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۲
صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے پاس لاؤ۔ اور حطین کا معرکہ یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو۔ امیر شکیب ارسلان (وفات: 1946) نے اپنی مشہور کتاب : لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (1938) میں مسلمانوں کو دوبارہ عسکری معرکہ آرائی پر ابھارا ہے اور عسکری اقدام کو کامیابی کا راز بتایا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حسب ذیل شعر نقل کیا ہے: تأخرت أستبقى الحياة، فلم أجد لنفسى حياة، مثل أن أتقدّما میں زندہ رہنے کے لیے (میدان جنگ) سے پیچھے رہا، لیکن میں نے اپنے لیے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لیے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے دورِ جدید کے مسلم ذہن کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ عسکریت(militancy) کی تصویر ہے۔ اس سلسلے میں رام موہن گاندھی نے اقبال کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے: ہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھا اس مصرعے کا انگریزی ترجمہ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے:
For every vein of falsehood, every Muslim was a knife. اس دور کے تمام مسلم رہ نما ردِ عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے وہ صرف منفی رُخ پر سوچتے رہے۔ انھوں نے انتہائی غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ غیر مسلم قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر، مسلمانوں کو اُن سے متنفر کر دیا۔ مسلمان اس قابل نہ رہے کہ وہ نئی ابھرتی ہوئی قوموں کے بارے میں مثبت رائے قائم کریں، وہ اُن سے نئی حقیقتوں کو سیکھیں۔
اس نئی صورت حال کے پیش آنے کے بعد، اصل ضرورت یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ غیر مسلم اقوام کا کیس اُن کے خلاف دشمنی کا کیس نہیں، بلکہ وہ اُن کے لیے چیلنج کا کیس ہے۔ فطرت کے عمومی قانون کے تحت، ان قوموں نے مسلمانوں کو چیلنج دیا ہے، اور اب مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اس کا سامنا کریں۔ وہ پورے معاملے پر نظرثانی (reassessment) کر کے نئی منصوبہ بندی کے تحت دنیا میں دوبارہ اپنا مقام بنائیں۔ یہی مسلمانوں کی صحیح رہ نمائی تھی، مگر منفی نفسیات
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues