Al-Risala · April 2008 · page 13

قومی فخر نہیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۳

میں مبتلا رہ نما، مسلمانوں کو یہ صحت مند رہ نمائی (healthy guidance) نہ دے سکے اور پوری مسلم دنیا منفی سوچ اور غصہ اور نفرت میں مبتلا ہو کر رہ گئی۔

بیسویں صدی کے نصفِ اول میں پوری مسلم دنیا میں بڑی تعداد میں مسلم رہ نما پیدا ہوئے، مگر ان تمام مسلم رہ نماؤں کا کیس مشترک طور پر وہی تھا جو اوپر بیان ہوا۔ عرب دنیا میں اس زمانے میں سید جمال الدین افغانی، سید قطب، امیر شکیب ارسلان، وغیرہ نے یہی کام کیا۔ اسی طرح برصغیر ہند میں اقبال اور ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ یہی کام کرتے رہے۔ میرے علم کے مطابق، رہ نماؤں کی لمبی فہرست میں کوئی بھی اس معاملے میں استثنا (exception) کی مثال نہیں۔ یہ منفی رہ نمائی مسلمانوں کو جہاد کے نام پر تشدد تک لے گئی، اور جب مسلمان دوسروں کو ہلاک کرنے پر قادر نہ ہو سکے تو انھوں نے خود کش بم باری (suicide bombing) کے ذریعے خود اپنے آپ کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ اس صورتِ حال کا ایک انوکھا ظاہرہ وہ ہے جس کو میں نظریاتی خود فریبی سے تعبیر کروں گا۔ موجودہ زمانے میں آپ کو بہت سے مسلمان ملیں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم کو سید قطب کی تحریروں اور ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں اور احمد دیدات کے کیسٹس کے ذریعے نیا ایمان حاصل ہوا ہے۔ ان حضرات کے افکار سے ہم کو دوبارہ اسلام ملا ہے، ورنہ ہم اسلام سے دور چلے گیے تھے۔ میں نے ان حضرات کے کیس پر بہت غور کیا۔ میرے نزدیک یہ مسلم رہ نما، منفی خوراک دیتے ہیں نہ کہ مثبت خوراک۔ پھر کیسے ایسا ہوا کہ اُن کی باتوں سے کچھ لوگوں کو مثبت اسلام مل گیا۔ اس قسَم کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ گہرے جائزے کے بعد آخری طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی، وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو جو چیز ملی ہے، وہ قومی اسلام ہے نہ کہ حقیقی اسلام۔ بیسویں صدی میں، بہت سے مسلمان، خاص طور پر مسلم نو جوان، اس احساس میں جی رہے تھے کہ دوسری قوموں نے اُن کا قومی فخر اُن سے چھین لیا ہے۔ مسلح جہاد کے باوجود وہ اپنے اس قومی فخر کو دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ اس دوران میں یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگ نکلے جو الفاظ کی دنیا میں ان کے جذباتِ فخر کی تسکین فراہم کر رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ مغرب کی سائنسی ترقی مسلم دماغوں کی خوشہ چینی کے ذریعے ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page