Bulldoze them all.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۴
کسی نے مسلمانوں کی سیاسی فتوحات پر کتابیں لکھ کر اُن کو ماضی کی عظمت دوبارہ یاد دلائی۔ کسی نے بتایا کہ اسلام کا نظام دنیا کے تمام نظاموں سے زیادہ اعلیٰ اور برتر (superior) ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی تہذیب ایک ایسا درخت ہے جو صرف زہر یلے پھل دے سکتا ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی تہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے، تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ ان کا بلند مقام حاصل ہو جائے۔ کسی نے بتایا کہ دنیا کا اسٹیج مسلمانوں کی نشأۃ ثانیہ (renaissance) کا انتظار کر رہا ہے: اُٹھ، کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے موجودہ زمانے میں شاعروں اور خطیبوں اور انشا پردازوں کے علاوہ، ایک اور طبقہ پیدا ہوا جس کو مسلم ڈیبیٹر (مناظر) کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے شانِ دار اسٹیج بنائے اور وہاں پر جوش تقریریں کیں۔ انھوں نے ٹی وی کے اسکرین پر مناظرانہ مظاہرے کیے ۔ انھوں نے مسلم نفسیات کو یہ کہہ کر فرضی فتوحات کی خوراک دی کہ ان سب کو بل ڈوز کردو:
Bulldoze them all.
یہ مسلم ڈیبیٹر اس آخری حد تک گیے کہ جب مسلمانوں کو ٹرسٹ (terrorist) کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہاں، ہم ٹرسٹ ہیں۔ مگر ہم پولس کی طرح مجرمین کے لیے ٹرسٹ ہیں: Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A pliceman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thieves, dacoits and rapists. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو قطب اور اقبال اور مودودی اور احمد دیدات کے ذریعے اسلام ملا، وہ دراصل ایک شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ قومی اسلام کو ربانی اسلام کا درجہ دے رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے ان حضرات کے ذریعے اپنے قومی فخر کو دوبارہ حاصل کر لیا، مگر غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کو حقیقی اسلام حاصل ہو گیا ہے۔ اسی قسم کے ایک مسلمان مسٹر مراد سے 2 اگست 2007 کو میری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ اُن
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues