Al-Risala · April 2008 · page 15

Bulldoze them all.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۵

کے والدین شام سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر وہ شام کو چھوڑ کر ترکی گئے۔ پھر ترکی سے وہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ اس وقت یہ فیملی آسٹریلیا میں رہ رہی ہے۔ مسٹر مراد کی تعلیم آسٹریلیا کے اسکول اور کالج میں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسکول ایک کرسچن اسکول تھا۔ وہاں انھیں بتایا جاتا تھا کہ عیسائیت (Christianity) زیادہ اچھا مذہب ہے، اور اسلام اُس کے مقابلے میں کم تر مذہب ہے۔ وہ اسلام کی اس منفی تصویر سے سخت پریشان تھے۔ پھر انھیں احمد دیدات جیسے لوگوں کو سننے کا موقع ملا۔ اس سے اُن کے ذہن میں اسلام کی عظمت (glory) دوبارہ لوٹ آئی۔ وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کی ایک چیز سمجھنے لگے۔ پھر اسی مجلس میں انھوں نے بتایا کہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے آگرہ گیا تھا۔ مجھے تاج محل دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ میں نے سوچا کہ تاج محل کو بنانے والے مسلمان تھے، مگر آج ہندو لوگ اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ کی اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو احمد دیدات جیسے لوگوں کے ذریعے جو اسلام ملا ہے، وہ اسلام نہیں ہے، بلکہ صرف قومی فخر ہے۔ اگر آپ کو حقیقی اسلام ملا ہوتا تو آپ تاج محل کے بارے میں اس قسم کی منفی بات نہ کہتے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کو انڈیا میں صرف تاج محل دکھائی دیا۔ انڈیا میں اس کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ بڑی چیز موجود ہے، اور وہ دعوتی عمل کی آزادی ہے۔ تاج محل کو لے کر آپ کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو گیا، حالاں کہ اگر آپ انڈیا میں موجود دعوتی مواقع کو لے کر سوچتے تو آپ کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا۔

میرے تجربے کے مطابق ، یہی اُن تمام لوگوں کا معاملہ ہے جو شاعروں اور مُناظروں کی باتوں کو سُن کر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کو پالیا ہے، حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ جس چیز کو انھوں نے دریافت کیا ہے، وہ اسلام کے نام پر محض فخر (pride) ہے۔ اور فخر صرف ایک مذموم چیز ہے، نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز۔

کسی آدمی نے حقیقی اسلام کو پایا ہے یا نہیں، اُس کا معیار صرف ایک ہے، اور وہ فکر آخرت ہے۔ جس آدمی کا اسلام اُس کے اندر گہرے طور پر آخرت کی فکر پیدا کر دے، اُسی نے فی الحقیقت

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page