Al-Risala · April 2008 · page 16

Bulldoze them all.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

اسلام کو پایا۔ جس آدمی کا اسلام اُس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نہ دکھائے، اُس نے اسلام کو پایا ہی نہیں۔ اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے اسلام کو پالیا ہے۔ اسلام کا آغاز، خدا کی دریافت (معرفت) سے ہوتا ہے۔ خدا کی دریافت ایک ایسی بالا تر ہستی کی دریافت ہے جو انسان کا خالق ہے، جو انسان کا مالک ہے، جس نے انسان کو زندگی کے تمام سامان دیے ہیں۔ جب انسان خدا کو دریافت کرتا ہے تو اُسی کے ساتھ وہ یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ خدا کا یہ تخلیقی نقشہ اُس کو بتاتا ہے کہ دنیا میں جو سامانِ حیات اُس کو ملے ہوئے ہیں، وہ سب کے سب امتحان کے پرچے ہیں۔ یہ چیزیں اُس کو حق کے طور پر نہیں ملی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ملی ہیں کہ اُن کے ذریعے انسان کو جانچ کر دیکھا جائے کہ وہ جہنم کی سزا کے قابل ہے، یا جنت کے انعام کے قابل۔

یہ دریافت اُس کو آخری حد تک تڑپا دیتی ہے۔ دنیا کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے، ہر وقت اُس کو قرآن کی یہ آیت یاد آتی ہے: ثم لتسئلن يومئذ عن النعيم (التكاثر : 8) یعنی پھر یقیناً تم سے اُس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ پھر خدا کی معرفت اور جنت اور جہنم کا یقین اور مواخذۂ آخرت (accountability) کا شدید احساس، اُس کو ایسا بنا دیتا ہے کہ اس دنیا میں میرا کوئی حق (right) نہیں، یہاں میری صرف ذمے داریاں (responsibilities) ہی ذمے داریاں ہیں۔ یہ احساس اُس کو آخری حد تک فرض شناس (duty conscious) بنا دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا ذہن بنتا ہے جس میں دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی ذمے داریوں کو سوچتا ہے، نہ کہ دوسروں کی کوتاہیوں کو۔ اُس کی نظر ہمیشہ اپنی غلطیوں پر ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں پر۔ اُس کا دل دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues

Printed page