Bulldoze them all.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
دیوار قہقہہ The story of the wall of laughter ایک پرانا قصہ ہے کہ کسی مقام پر ایک مضبوط دیوار تھی ۔ یہ دیوار بہت اونچی تھی۔ اسی کے ساتھ وہ دونوں طرف بہت زیادہ دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے، اور کس قسم کے لوگ ادھر رہتے ہیں۔ دیوار کے ایس طرف جو لوگ رہتے تھے، انھوں نے یہ چاہا کہ دیوار کے دوسری طرف کا حال معلوم کریں۔
اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک بہت لمبی سیڑھی بنائی، پھر انھوں نے اُس سیڑھی کو دیوار کے ایک طرف کھڑا کیا اور اپنے ایک آدمی کو سیڑھی پر چڑھایا، تاکہ وہ دیوار کے اوپر تک جائے اور وہاں سے دیکھے کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد وہ نیچے آکر دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو دیوار کے دوسری طرف کا حال بتائے۔ لیکن جب یہ آدمی لمبی سیڑھی پر چڑھ کر دیوار کے اوپر پہنچا تو دوسری طرف کی دنیا اُس کو اتنی زیادہ خوب صورت معلوم ہوئی کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔
اس کے بعد دیوار کے اس طرف رہنے والوں نے اپنے ایک اور آدمی کو تیار کیا اور اس کو لمبی سیڑھی کے اوپر چڑھایا، لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ جب وہ آدمی دیوار کے اوپر پہنچا تو قہقہہ لگا کر وہ دوسری طرف کود پڑا۔ یہ تجربہ بار بار کیا جاتا رہا، لیکن ہر بار یہی ہوا کہ او پر چڑھنے والے آدمی کو دوسری طرف کا منظر اتنا پرکشش نظر آیا کہ وہ قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔ اس طرح دیوار کے اس طرف رہنے والوں کے لیے دیوار کے دوسری طرف کا حال بدستور نا معلوم بنارہا۔
اس افسانوی دیوار کو اگر موت کی دیوار مانا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ انسان کی زندگی کا ایک حصہ دیوار کے اس طرف ہے، اور اس کا دوسرا حصہ دیوار کے دوسری طرف۔ دیوار کے دوسری طرف خوشیوں کی دنیا، یا دوسرے لفظوں میں ، جنت کی دنیا بسی ہوئی ہے اور دیوار کے اس طرف محنت اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues