Bulldoze them all.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۸
مشقت کی دنیا ہے، تو یہ کہانی انسانی تاریخ کے اوپر مکمل طور پر صادق آئے گی۔ یہ تمثیلی کہانی گویا کہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔
انسان پیدائشی طور پر اپنے لیے خوشیوں کی ایک زندگی چاہتا ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو متلاشی مسرت حیوان (joy-seeking animal) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم انسان نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی زندگی مختلف قسم کے غم سے بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے لیے ایک پُرمسرت زندگی کی تلاش شروع کر دی۔ اس تلاش کا غالباً پہلا نمایاں واقعہ پہیہ (wheel) کی دریافت تھی۔ پہیے کی دریافت کے بعد تلاش مسرت کا یہ انسانی سفر شروع ہو گیا۔ اس سفر کو ایک متعین نام دینا ہو تو اُس کو تہذیب (civilization) کا سفر کہا جا سکتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر چلتا رہا۔ لمبی مدت کے بعد آخر کار یہ سفر جدید تہذیب (modern civilization) کے دور تک پہنچ گیا۔ اب اُس کو تیز رفتار سفر کے لیے مشین کی طاقت حاصل ہوگئی۔ جدید کمیونی کیشن کا زمانہ آیا اور جسمانی سفر کے بغیر انسان کی آواز اور اس کی متحرک تصویر بعید ترین مسافت تک پہنچنے لگی۔ جدید انڈسٹری نے کنزیومر ازم (consumerism) کا دور پیدا کیا، جب کہ راحت اور آسائش کی تمام چیزیں غلے اور سبزی کی طرح بازار میں بکنے لگیں، وغیرہ۔ اس طرح انسانی تہذیب کا میابی کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے ہوئے آخر کار اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ گئی، لیکن اس آخری منزل پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک نیا شدید تر مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اب یہ ہوا کہ دیوار قہقہہ (laughter wall) اُن کے لیے ایک نئی قسم کی دیوار گر یہ (wailing wall) بن گئی۔ اب معلوم ہوا کہ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد جو دنیا اپنے لیے بنائی تھی، وہ انسان کے لیے خوشیوں کی دنیا نہ تھی، بلکہ وہ صرف نئی نا قابل عبور مصیبتوں کی ایک دنیا تھی۔ چناں چہ اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب ایک بندگلی (blind alley) تک پہنچ کر انسانی تاریخ کے خاتمہ (end of history) کے ہم معنی بن گئی۔
ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک ہے، وہ یہ کہ خوشیوں کی ایک دنیا بنانے کے لیے ایک مکمل انڈسٹری درکار ہے۔ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد ایک ایسی انڈسٹری تیار کی، لیکن جب یہ انڈسٹری
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues