Bulldoze them all.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹
تیار ہو گئی تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انڈسٹری ایک نیا نا قابل عبور مسئلہ لے کر آئی ہے۔ یہ مسئلہ فضائی کثافت (air pollution) کا مسئلہ ہے، جو کہ انسانی انڈسٹری کے ساتھ لازمی طور پر جڑا ہوا ہے۔ ہم کو اپنی مطلوب راحتوں کی دنیا بنانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution-free industry) درکار ہے، اور بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح کثافت کے مسئلے نے عملی طور پر تہذیب کے تمام ثمرات(achievements) کی نفی کر دی ہے۔ ایک طرف، اپنی مطلوب دنیا بنانے کے لیے انسان کے عجز کا یہ معاملہ ہے اور دوسری طرف، اسی دنیا میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں ایک بے کثافت انڈسٹری عملاً ہزاروں سال سے مکمل طور پر قائم ہے۔ یہ فطرت (nature) کی انڈسٹری ہے۔ تہذیب، بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانے میں مکمل طور پر نا کام رہی، لیکن اسی دنیا میں فطرت (nature) ایک مکمل قسم کی بے کثافت انڈسٹری بہت بڑے پیمانے پر بالفعل (in action) قائم کیے ہوئے ہے۔
موجودہ سیارہ زمین جس پر انسان رہتا ہے، وہ مسلسل طور پر گردش میں ہے۔ وہ اپنے محور (axis) پر ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وسیع خلا میں سورج کے گرد وہ اپنے مدار (orbit) پر 19 کروڑ میل کا لمبا سفر طے کرتا ہے، پہلا سفر 24 گھنٹے میں پورا ہوتا ہے اور دوسرا سفر ایک سال میں۔ سیارہ زمین کا یہ دو طرفہ تیز رفتار سفر مسلسل طور پر جاری ہے، لیکن یہاں نہ کوئی شور (noise) ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔
سورج آگ اور انرجی کا بہت بڑا بھنڈار ہے۔ وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اُس سے 12 لاکھ زمینیں بن سکتی ہیں۔ وہ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور رہتے ہوئے مسلسل طور پر ہم کو روشنی اور حرارت بھیج رہا ہے، لیکن دوبارہ یہاں کسی قسم کی کوئی کثافت (pollution) مطلق موجود نہیں۔ اسی طرح نیچر میں ایک اور انڈسٹری ہے۔ یہ درختوں اور پودوں کی صورت میں قائم ہے۔ یہ انڈسٹری ایک نہایت پیچیدہ نظام کے تحت، انسان کو مسلسل طور پر صحت بخش آکسیجن سپلائی کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہماری سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کر رہی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم انڈسٹری
‹ Previous page Next page › Contents of April 2008 All issues